Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
46 - 53
ہے ۔ اسے بھی چاہیے کہ وہ ان باتوں یعنی پُرتکَلُّف عبارات اور تَصَنُّع و بناوٹ سے پرہیز کرے۔

    دوسری بات : وعظ و بیان کرنے میں ہر گز تیری نیّت اور خواہش یہ نہ ہو کہ لوگوں میں واہ واہ کے نعرے بلند ہوں۔ اور وجد کی کیفیت ان پر طاری ہو ۔اور وہ گریباں چاک کر دیں ۔اور ہر طرف یہ شور ہو کہ کیسی اچھی محفل ہے ۔کیونکہ (اس خواہش کا دل میں پیدا ہونا) دنیا کی طرف جھکاؤ اور ریا کاری کی علامت ہے۔اور یہ چیز حق سے غافل ہو نے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے ۔بلکہ ہونا تَو یہ چاہیے کہ تیرا عزم و ارادہ یہ ہو کہ ( تُو اپنے وعظ وبیان کے ذریعے ) لوگوں کو دنیا سے آخرت کی طرف راغب کرے،  گناہوں سے نیکیوں کی طرف ، حرص و لالچ سے زہد و بے رغبتی کی طرف، بخل و کنجوسی سے سخاوت کی طرف ، غرور سے تقوٰی وپرہیز گاری کی طرف، (ریاکاری سے اخلاص کی طرف ، تکبر سے عاجزی و انکساری کی طرف ، غفلت سے بیداری کی طرف) مائل کرنے کی کوشش کرے ۔ ان کے دلوں میں آخرت کی محبت پیدا کر کے دنیا کو ان کی نظروں میں قابل نفرت بنا دے ۔ اور انہیں عبادت و زہد کے علم سے مالا مال کرے ۔ کیونکہ انسان کی طبیعت میں اس بات کا غَلَبہ ہے کہ وہ شریعت مطہَّرہ کی سیدھی راہ سے پھر کر اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی والے کاموں اور بیہودہ عادات و اطوار میں جلد مشغول ہو جا تا ہے۔ لہٰذا ان کے دلوں میں خوف ِخدا عزَّوجلْ اور تقوٰی و پرہیز گاری پیدا کر اور انہیں ( وقتِ ِنزع اور قبرو آخرت میں ) پیش آنے والے خطرات و مشکلات سے ہر ممکن ڈرانے کی کوشش کر، شاید ایسا کرنے سے ان کے ظاہری و باطنی مُعامَلات میں تبدیلی رُونُماہو۔ اور وہ(سچّی توبہ کرکے ) اﷲ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت میں شوق و رغبت کا مظاہرہ کریں ۔ معصیت و نافرمانی سے بیزاری اختیار کریں ( اور سنّتوں کے سانچے میں ڈھل جائیں) یہی وعظ وبیان کا طریقہ ہے ۔اور ہر وہ وعظ وبیان جس میں یہ خو بیاں نہ ہوں تو