Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
45 - 53
مقصد ( اپنی قابلیت کا اظہار نہیں بلکہ ) یہ ہے کہ بندہ آخرت کی تکالیف و عذاب کو بھُلانہ پائے، اﷲ تعالیٰ کی عبادت میں جو کوتاہیاں سرزد ہوئیں انہیں یاد کرے ، فُضول و لایعنی کاموں میں ضائع کردہ اپنی عمر پر افسوس کرے، اور پیش آنے والے دشوار گزار مراحل کے بارے میں غور وفکر سے کام لے کہ ایمان پر خاتمہ نہ ہوا، تو کیا بنے گا؟ مَلَکُ الموت حضرت سیِّدُنا عزرائیل علیہ السَّلام جب روح قبض فرمائیں گے، تو کیسی حالت ہوگی؟ اور کیا مُنکَر نکیر کے سوالوں کے جوابات دینے کی طاقت و ہمّت ہے ؟ روزِ محشر کی سختیوں پر غور کرے ، کہ کیا پل صِراط کو آسانی سے پار کر لے گا یا'' ھَاوِیَہ'' میں گر جائے گا؟ اس کے دل میں ان معاملات کی یاد ہمیشہ آتی رہے اور اس سے قرار و سُکو ن چھن جائے ،تو ایسے جذبات کے جوش اور ان مَصائب و آلام پر رونے کانام بیان ہے ۔ 

    جبکہ لوگوں کو ان ( بیان کردہ) معاملات کی طرف توجہ دلانا اور ان کی کوتاہیوں پر انہیں تنبیہ کرتے ہوئے، ان کے عیبوں سے انہیں آگاہ کرنا اس طرح ہو کہ اجتماع میں بیٹھے لوگوں پر رِقَّت طاری ہو اور یہ مَصائب و آفات ( جو پیش آنے والے ہیں ) انھیں ا فسردہ و غمزَدہ کردیں ،تاکہ جہاں تک ہو سکے وہ اپنے برباد شدہ وقت پر افسوس کریں اور ( نیکیوں میں خوب اضافہ کرکے ) اس کی تلافی کریں۔ اور جو دن اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی میں بسر کیے ،ان پر خوب حسرت و پشیمانی کا اظہار کریں ۔اس طریقے پر جامع کلام کو وعظ کہا جاتا ہے ۔ مثلاًاگر دریا میں طغیانی ہو اور سیلاب کا رخ کسی کے گھر کی طرف ہو، اور اتفاق سے وہ اپنے اہل خانہ سمیت گھر میں موجود ہو، یقیناً تُو یہی کہے گا بچو!جلد ی کرو!ان خطرناک لہروں سے بچنے کی کوشش کرو !اور کیا تیرا دل یہ چاہے گا ،کہ اس نازک و پُر خَطر موقع پر صاحبِ خانہ کو پُرتکَلُّف عبارات، تَصَنُّع و بناوٹ سے بھر پور نِکات اور اشارے سے خبر دے ؟ ظاہر ہے تُو ایسا کبھی نہیں چاہے گا ۔( اور نہ ہی ایسی نادانی اور بے وقوفی کا مظاہرہ کریگا) پس یہی حال واعِظ و مُبلِّغ کا