Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
44 - 53
راستےکا طالب ہو ،اس کا سوال اوراعتراض ، حسد،پریشان کرنے اورآزمائش کی وجہ سے نہ ہوتوایسے آدمی کا مرض قابل علاج ہے ۔ چنانچہ ایسے شخص کے سوالات کا جواب دیا جائے۔ بلکہ تیرے لیے لازم ہے کہ تو اس کا مسئلہ حل کردے ۔
وعظ و بیان کی حقیقت
    دوسری نصیحت :جن چار باتوں سے دور رہنا ضروری ہے، ان میں سے دوسری بات یہ ہے کہ (بے عملی کی صورت میں ) وعظ ونصیحت کرنے سے اجتناب کر۔کیونکہ اس میں بڑی آفتیں اور نقصان ہیں ۔مگر جب تیرا اپنے بیان و تقریر پر عمل ہو ،تو اب لوگوں کو وعظ و نصیحت کرنا درست ہے۔ ( کہ اس صورت میں تیری زبان میں تاثیر پیدا ہو گی) حضرت سیِّدُنا عیسٰی علیٰ نبیّنا و علیہ الصَّلوٰۃ والسَّلام سے پروردگارِ عالم عزَّوجلْ نے جو ارشاد فرمایا، اس میں خوب غور وفکر کر تا کہ نصیحت حاصل کر سکے۔
یَااِبْنَ مَرْیَمَ عِظْ نَفْسَکَ فَاِنِ اتَّعَظَتْ فَعِظِ النَّاسَ وَاِلَّا فَاسْتَحِ مِنِّی
اے ابن مریم!اپنے نفس کو نصیحت کر ،اگر اس نے نصیحت قبول کر لی ،تو پھر لوگوں کو نصیحت کرنا، ورنہ مجھ سے حیا کرو۔
(احیا ء العلوم : کتا ب العلم الباب السادس فی آفات العلم الخ ج۱ ص ۹۱ دار صادربیروت )
وعظ و بیان میں کن چیزوں کا خیال رکھا جائے؟
اگر معاملہ ایسا ہو کہ تجھے وعظ و بیان کرنا ہی پڑے تو دوباتوں سے پرہیز کرنا ۔

    پہلی بات :وعظ وبیان میں تَصَنُّع وبناوٹ ، خوش کن عبارات ، رنگین بیانی اور فُضول اشارات سے اجتناب کرنا ۔غیر مستند و اقعات اور فُضول شعر و شاعری سے بھی پرہیز کرنا کیونکہ اﷲ تعالیٰ تَصَنُّع اور بناوٹ سے کام لینے والوں کو نا پسندفرماتا ہے ۔ کلام میں تَکَلُّف یا نُمُود ونُما ئش کا حد سے تجا وُز کرنا باطن کے خراب ہو نے اور دل کی غفلت پر دلالت کرتا ہے ۔ بیان کا
Flag Counter