| بیٹے کو نصیحت |
رکھتا ہوں لیکن اَحمق کے علاج سے عاجز ہوں۔ ایسا اَحمق تھوڑا عرصہ طلبِ علم میں مشغول ہوتا ہے اور عُلُومِ عقلیّہ و شرعیّہ میں سے کچھ حاصل کرلیتا ہے ۔پھر اپنی حماقت کے باعث اُن جیّد علماء کرام پر سوالات و اعتراضات کرنے لگتا ہے ، جنہوں نے اپنی عمرِ عزیز عُلُومِ عقلیّہ و شرعیّہ کی خدمت میں صرف کردی ہے۔ اور یہ گمان کرتا ہے کہ جو بات '' میں '' نہ سمجھ سکا ،ہر بڑا عالم اس کے سمجھنے سے قاصر ہے ۔ اس اَحمق کو اتنا بھی علم نہیں کہ اس کا اعتراض سراسر حماقت و نادانی پر مشتمل ہے ۔ ایسے شخص سے بھی الگ رہنا چاہیے اوراس کے سوال پر توجہ نہ دینا چاہیے ۔
نصیحت بقدر ظرف
تیسری قسم کا لا علاج بیمار وہ ہے، جو حق کا مُتَلاشی تو ہو، مگر بزرگوں کی باتیں پوری طرح سمجھ نہیں پاتا اوراسے اپنی کم فہمی تصور کرتا ہے ۔ایسا شخص سُوال تو سیکھنے کی غرض سے کرتا ہے ،لیکن کند ذہن اور کم عقل ہونے کے باعث وہ حقیقت جاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔لہٰذا ایسے شخص کو بھی جواب نہ دینے ہی میں عافیت ہے ۔ جیسا کہ نبی کریم، رؤف و رّحیم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم ا رشاد فرماتے ہیں
نَحْنُ مَعَاشِرَ الْاَنْبِیَاءِ اُمِرْنَا اَنْ نُکَلِّمَ النَّاسَ عَلٰی قَدْرِ عُقُوْلِھِمْ
ہم گروہ انبیاء (علیھم الصَّلوٰۃ و السَّلام ) کو حکم دیا گیا ہے، کہ لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کریں ۔
نصیحت کے قابل شخص
چو تھی قسم کا مریض جس کا علاج ممکن ہے، وہ ایسا مریض ہے جو رُ شد وہدایت کا طلب گار ہو ۔ عقل مند اور معاملہ فہم ہو۔ حسد اور غضب و غصّہ اس پر غالب نہ ہوں ،شہوت و نفس پرستی ، جاہ وجلال اور مال ودولت کی محبت سے اس کا دل خالی ہو ، راہ حق اور سیدھے