| بیٹے کو نصیحت |
یعنی ہر عداوت کے خاتمے کی اُمید کی جاسکتی ہے ،مگر جس دشمنی کی بنیاد حسد پر ہو اس کا خاتمہ ممکن نہیں ۔ پس تیرے لیے ضروری ہے کہ تو ایسے ( مریض کو ) اس کے مرض سمیت چھوڑ دے ۔ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔
فَاَعْرِضْ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰی ۬ۙ عَنۡ ذِکْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ﴿ؕ۲۹﴾
ترجَمہ کنز ُالایمان: تو تم اس سے منہ پھیر لو، جو ہماری یادسے پھرا۔ اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی۔ (النجم /۲۹) حاسد سے جو کچھ تُوکہے یااس کے لیے جو کچھ کرے ( تَوتیرے ہر قول و فعل سے ) اس کے علم کی کھیتی میں مزید آگ بھڑک اُٹھے گی ۔ تاجدار حرم ، نبی مکرَّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم کا فرمانِ عبر ت نشان ہے
اَلْحَسَدُ یَاْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَا تَاْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ
حسد نیکیوں کو یوں کھا جا تا ہے جیسے آگ خشک لکڑیوں کو کھا جاتی ہے ۔
(سنن ابن ماجہ : کتاب الزھدباب الحسد ج۴ ص ۷۴۳رقم الحدیث ۴۲۱۰دارالمعرفۃ بیروت )
احمق کا علاج ممکن نہیں
ناقابل علاج مریضوں میں سے دوسرا وہ ہے ،جس کی بیماری کاسبب حماقت ہو ۔ کیونکہ حماقت کا علاج بھی ممکن نہیں ۔جیسا حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیٰ نبیّنا و علیہ الصَّلوٰۃ والسَّلام کا ارشادِ مبارک ہے ۔
اِنِّی مَا عَجَزْتُ عَنْ اِحْیَاءِ الْمَوْتٰی وَقَدْ عَجَزْتُ مِنْ مُعَالَجَۃِ ا لْاَحْمَقِ
یعنی میں (اللہ تعالیٰ کے حکم سے ) مُردوں کو تو زند ہ کرنے کی قدرت اور طاقت