Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
41 - 53
(۲)مجمعِ کثیر کے بجائے تنہائی میں اس مسئلے پر بحث کو تُو بہتر سمجھے ۔

( اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو یقین کرلے کہ شیطان لعین اس بظاہر نیک کام کی آڑ میں تجھے کافی سارے خطرات و مشکلات میں پھنسانا چاہتاہے )
قلبی امراض میں مبتَلا مریض
    اب میں ایک بہت اہم بات بتارہا ہوں تو جّہ سے سنو !مشکلات و مسائل کے بارے میں سُوال کرنا گو یا طبیب کے سامنے اَمراض ِقلب کو بیان کرنا ہے ۔اور اس کا جواب دینا گویادل کی بیماری کی شفاء کے لیے کوشش کرنا ہے ۔یقین کر لو! کہ جاہل لوگ ایسے مریض ہیں جن کے دل بیمار ہیں ۔جبکہ علماء کرام طبیب اور حکیم کی مانند ہیں ۔ناقص عالم صحیح علا ج نہیں کر سکتا۔ اور کامل عالم بھی ہر مریض کا علاج نہیں کرتا۔ بلکہ اس مریض کا علاج کرتا ہے جس کے بارے میں امید ِغالب ہو کہ وہ تجاویز و علاج قبول کریگا ۔ اگر مریض کی بیماری پرانی اور دائمی ہو تو اس کا مرض ،علاج قبول نہیں کرتا ،تو اچھا طبیب وہ ہے جو اس موقع پر یہ کہہ دے کہ تیرا علاج ممکن نہیں ۔کیونکہ ایسے مریض کو دوا دینے میں مشغول ہو نا قیمتی عمر ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔پھر اس بات کو بخوبی سمجھ لے !کہ جہالت میں مبتلاء مریضوں کی چار قسمیں ہیں جن میں سے ایک کا علاج ممکن ہے ۔ باقی تین لاعلاج ہیں ۔
حسد کی نُحوست
    ناقابل علاج مریضوں میں سے پہلا مریض وہ ہے، جو اعتراض اور حسد و بغض کی غرض سے سُوال کرتا ہے۔ اگر چہ تُو اس کا جواب بڑے اَحسن طریقہ سے، نہایت ہی عمدگی اور وضاحت سے دے گا ،لیکن اس کے بغض و عداوت اور حسد میں مزید اضافہ ہوتا ہی چلا جائے گا۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ تُو اس کا جواب ہی نہ دے ۔جیسا کہ کہا گیا ہے ۔
؎ کُلُّ الْعَدَاوَۃ ِ قَدْ تُرْجٰی اِ زَالَتُھَا
Flag Counter