Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
40 - 53
    اے نورِ نظر !
    اﷲ تعالیٰ کی عظمت و جلال کی قسم !اگر تُو نے سفر اختیار کر لیا، تو ہر منزل پر عجائب و غرائب کا نظارہ کریگا۔اپنے دل و جان کو اس راہ پر قربان کردے تاکہ تجھے تیرا مقصد حاصل ہو جائے ۔جیسا کہ حضرت سیِّدُنا ذوالنُّون مصری علیہ رحمۃ الباری نے اپنے ایک شاگرد سے فرمایا تھا ،اگر جان کی بازی لگانے کی ہمّت ہے تو (حلقہ صوفیاء میں)آجا، ورنہ محض ( نام نہاد) صوفیوں کی خوش کن باتوں میں مت آ۔
آٹھ اہم مدنی پھول

    اے لختِ جگر !
 میں تجھے آٹھ نصیحتیں کرتا ہوں انہیں قبول کرلے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ میدانِ محشر میں تیرا علم تیرا دشمن بن جائے ۔ان آٹھ نصیحتوں میں سے چار ایسی ہیں، جنھیں اپنانا لازمی ہے اور چار ایسی ہیں ،جن کو ترک کرنا ضروری ہے ۔جن چار امور سے دوری لازم ہے وہ یہ ہیں۔

    پہلی نصیحت :جہاں تک ہو سکے کسی سے کسی مسئلہ میں مناظرہ ( اور بحث و مباحثہ) نہ کرنا ۔کیوں کہ اس میں بہت ساری آفتیں و مصیبتیں ہیں۔ اور فائدے سے زیادہ نقصان (اس میں پوشیدہ ) ہے ۔اس بحث و مباحثہ سے ریا، تکبّر ، حسد، کینہ ، بغض وعداوت ، دشمنی ا ور فخر جیسی مذموم اور بُری عادات پیدا ہوتی ہیں۔اگر تیرے اور کسی دوسرے شخص یا گروہ کے درمیان کوئی مسئلہ درپیش ہو اور تیری نیّت اور خواہش یہ ہو کہ حق کو ظاہر کر دیا جائے،  کہ خاموش رہنے کی وجہ سے کہیں حق ضائع نہ ہو ، تَو اب بحث و مبُاحثہ کرنے کی اجازت ہے ۔ لیکن تیرے اس ارادے اور نیّت کے درست ہونے کی دو علامات ہیں۔

(۱)تیرا مقصد صرف اور صرف یہ ہو کہ حق ظاہر ہو، خواہ وہ تیری زبان سے ظاہر ہو یا دوسرے کی زبان سے، اس بارے میں تجھے تشویش نہ ہو۔
Flag Counter