| بیٹے کو نصیحت |
سُن لو !اخلاص اسے کہتے ہیں کہ تیرا ہر عمل صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو، نہ لوگوں کی تعریف و توصیف کی تجھے خواہش ہو اور نہ ہی مذمّت و برائی کی پرواہ ہو ۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لو !کہ ریاکاری لوگوں کی ( طرف سے اپنی) تعظیم و توقیر (کی خواہش رکھنے کی وجہ )سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس کا علاج یہ ہے کہ تُو تمام لوگوں کو اﷲ تعالیٰ کی طاقت و قدرت کے سامنے مُسخَّر خیال کرے اور یہ گمان کرلے کہ انھیں جمادات کی طرح نفع ، نقصان پہنچا نے میں ( سوائے اﷲ تعالیٰ کی مرضی کے ) کوئی اختیار نہیں ۔ اور جب تک تُو ایسا نہیں کریگا، تجھے ریاکاری جیسی خطرناک اور بُری بیماری سے نجات نہیں مل سکتی ۔اپنے علم پر عمل کی بَرَکت
اے نورِ نظر !تیرے باقی سوال ایسے ہیں جن میں سے کچھ کے جوابات ہماری تصنیف کردہ کتابوں میں لکھے ہوئے ہیں۔ انھیں وہاں سے تلاش کر لو۔اور کچھ سوال ایسے ہیں جن کا جواب لکھنا ممنوع ہے ۔جتنا علم تیرے پاس ہے اس پر عمل کر تاکہ تُوجو کچھ نہیں جانتا وہ تجھ پر ظاہر و روشن ہو جائے ۔اﷲ تعالیٰ کے محبوب ،دانائے غُیُوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم کا فرمانِ خُوشبُودار ہے ۔
مَنْ عَمِلَ بِمَا عَلِمَ وَرَثَہُ اللہُ عِلْمَ مَا لَمْ یَعْلَمْ
جس نے اپنے علم پر عمل کیا اﷲ تعالیٰ اسے ایسا علم عطا فرمائے گا جو وہ پہلے نہ جانتا تھا۔
(حلیۃ الاولیاء (۴۵۵ : احمد بن ابی الحواری )ج ۱۰ ص ۱۳رقم الحدیث ۱۴۳۲۰دارالکتب العلمیۃ بیروت)
اے لختِ جگر !
آج کے بعد تمھیں جو مشکل مرحلہ پیش آئے تو دل کی زبان کے علاوہ مجھ سے نہ