| بیٹے کو نصیحت |
ظاہری احترام یہ ہے کہ شیخ سے کبھی بحث و مباحثہ نہ کرے۔اگرچہ تیرا علمِ ناقص یہ بتائے کہ شیخ سے غلطی ہو رہی ہے ( تَواسے اپنے فہم کی غلطی سمجھ) مگر شیخ کی بات پر اعتراض نہ کرے ۔ شیخ کے سامنے کچھ بچھا کر نہ بیٹھے۔ ( کہ نمایاں نظر آئے بلکہ عجز و انکساری کاپیکر بنا رہے ) ہاں فرض نمازوں کے وقت اپنی جائے نماز بچھا سکتا ہے۔ اور نماز سے فارغ ہوتے ہی اپنا مُصلَّیٰ فوراً لپٹ دے ۔اور شیخ کی موجودگی میں کثرتِ نوافل سے گریز کرے ۔( بلکہ مرشِد کی صحبت کو اپنے لیے بہت بڑی سعادت مندی تصوّر کرے ) شیخ کے ہر حکم پر اپنی وسعت و طاقت کے مطابق عمل کرے ۔
مرشِدکا باطنی احترام
باطنی احترام یہ ہے کہ شیخ سے ظاہری طورپر جو کچھ سنے یا ان کی موجودگی میں کسی چیز کا اقرار کرے تو اب باطن ( مُرشِد کی غیر موجودگی) میں اپنے کسی قول یا عمل سے اس کے خلاف ہر گز نہ کرے ورنہ منافق کہلا ئے گا۔ اگر ایسا نہیں کر سکتا توا س کے لیے بہتر ہے کہ وہ شیخ کی صحبت سے کنارہ کش ہو جائے ۔ یہاں تک کہ اس کا باطن اس کے ظاہر کے موافق ہو جائے۔سالک ( مرید) کو چاہیے کہ بُرے اور بد عقیدہ لوگوں کی صحبت سے دور رہے تاکہ دل سے شیطانی وسوسے، خواہ جنوں کی طرف سے ہوں یا انسانوں کی طرف سے ،دور ہو جائیں ۔ شیطان کے شر سے دل کو پاک رکھنے کا یہی طریقہ ہے ۔ اور ( مرید کو چاہیے کہ) ہر حال میں فقر کو مالداری پر ترجیح دے ۔
تصَوُّف کی حقیقت
( تُو نے تَصَوُّف کے متعلق پوچھا ہے ،تَو) جان لو!کہ تَصَوُّف کی دو اہم خصلتیں ہیں (۱) استقامت (۲) مخلوق کے ساتھ حسنِ اَخلاق سے پیش آنا جس نے ۱ ِستِقامت اختیار کی اور لوگوں سے بُردبا ری اور حُسنِ سُلُوک و خوش اَخلاقی سے پیش