Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
35 - 53
علاماتِ مُرشِدِکامل
    وہ شیخ ( پیر ِکامل) جو نبی اکرم، شاہ بنی آدم صلَّی تعالیٰ اللہ علیہ و آلہٖ و سلَّم کا نائب بننے کی صلاحیت رکھتا ہو، اس کے لیے شرط ہے کہ وہ عالم ہو۔ لیکن اس بات کا خیال رکھنا کہ ہر عالم، پیارے مُصطفٰے صلَّی تعالیٰ اللہ علیہ و آلہٖ و سلَّم کا نائب بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ اب ہم پیرِ کامل کی بعض علامات مختصراً ذکر کرتے ہیں ،تاکہ ہر کوئی یہ دعوٰی نہ کر بیٹھے کہ وہ پیرِ کامل ہے۔ کہ شیخِ کامل وہی ہے جس کے دل میں دنیا کی محبت اور عزّت و مرتبے کی چاہت نہ ہو۔ اور وہ ایسے مرشدِ کامل سے بیعت ہو، جو نورِ بصیرت سے مالا مال ہو اور اس کا سلسلہ رحمتِ عالم، نور ِ مجسّم، دافعِ بَلا واَلم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم تک متّصل اور ملا ہوا ہو ۔ کم کھانے ، کم سونے، کم بولنے ، کثرتِ نوافل ، زیادہ روزہ رکھنے اور صدقہ کرنے جیسے(نیک) اعمال سے نفس کشی کر چکا ہو ، اور وہ پیرِ کامل اپنے شیخ کی کامل اتّباع کے سبب صبر، نماز، شکر، تَوَّکُل، یقین، سخاوت، قناعت، طمانیتِ نفس، حِلْم، تواضع ، علم ، صِدْق، وفا، حیاء، وقارو سکون جیسے اوصاف حمیدہ کا پیکر ہو ، پس جب پیرِ کامل ان اوصاف سے مُتَّصِف ہو گیا، تو وہ حُضور پر نور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم کے انوارِ مبارکہ میں سے ایک نور بن گیا اور اب وہ اس مقام کو پہنچ گیا ہے کہ اس کی اِقتداء کی جائے ۔(اور اس کی بیعت ومریدی کو دنیا و آخرت کی کامیابی و سعادت کا ذریعہ سمجھا جائے ) ایسے پیرِ کامل کا پایا جانا بہت ہی مشکل ہے۔ اور اگر ( ربّ عزَّوجل کی رحمت سے) خوش قسمتی و سعادت مندی ساتھ دے ،اور ان اوصاف سے مُتَّصِف پیرِ کامل تک رسائی ہو جائے اور وہ پیرِ کامل بھی اسے اپنے مریدوں میں قبول فرمالے، تو اب اس مرید کے لیے لازمی اور ضروری ہے کہ اپنے پیرِ کامل کا ظاہراً اور باطناً، موجودگی اور غیر موجودگی ہر طرح سے ادب واحترام بجا لائے۔
مرشِد کا ظاہری احترام
Flag Counter