Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
34 - 53
پر عمل کیا، گویا اس نے ان چار وں کتابوں پر عمل کیا ۔
مرشِد کی اہمیت و ضرورت

    اے لختِ جگر !
ان دونوں حکایتوں سے معلوم ہوا کہ تجھے زیادہ اور غیر ضروری علم کی ضرورت نہیں ( بلکہ اپنے علم پر عمل کی سخت ضرورت ہے )اب میں تمھیں ان اُمور سے آگاہ کرتا ہوں کہ سالکِ طریقِ حق ( اﷲ تعالیٰ کی راہ پر چلنے والے مرید ) کے لیے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔یہ بات ذہن نشین کر لے کہ سالک کو شیخ کی ضرورت ہے ۔جو اس کی رہنمائی اور تربیّت کرنے والا ہو ،تاکہ اس کے بُرے اَخلاق کو نکال کر اسے اچھے اَخلاق سے مزیّن کر دے ۔

    تربیت کی مثال بالکل اس طرح ہے، کہ جس طرح ایک کسان کھیتی باڑی کے دوران اپنی فصل سے غیر ضروری گھاس، جڑی بوٹیاں نکال دیتا ہے تاکہ فصل کی ہریالی اور نشوونما میں کمی نہ آئے ۔اسی طرح سالکِ راہِ حق (مرید ) کے لیے شیخ ( مرشدِ کا مل) کا ہونا نہایت ہی ضروری ہے۔ جو اس کی اَحسن طریقے سے تربیت کرے اور اﷲ تعالیٰ تک پہنچنے کیلئے اس کی رہنمائی کرے ۔ ربّ ِکریم عزَّو جلْ نے انبیاء اور رسولوں علیھم الصَّلوۃ والسَّلام کو لوگوں کی طرف اس لیے مَبعُوث فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو اﷲ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ بتائیں، مگر جب آخری رسول، نبی مقبول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم اس جہاں سے پردہ فرماگئے اور نُبُوَّت و رسالت کا سلسلہ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم پر ختم ہوا، تو اس منصب ِجلیل کو خلفائے راشدین رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین نے بطورِ نائب سنبھال لیا اور لوگوں کو راہ حق پر لانے کی سعی و کوشش فرماتے رہے ۔
Flag Counter