میں نے دیکھا کہ ہر شخص کسی نہ کسی پر بھروسہ کئے ہوئے ہے کسی کا بھروسہ درھم و دینار پر ہے، تو کسی کا مال و سلطنت پر اور کسی کاصنعت و حرفت پر اور کوئی تَو اپنے جیسے لوگوں پر بھروسہ کیے ہوئے ہے ۔ تو مجھے اﷲ تعالیٰ کے اس فرمانِ مبارک سے رہنمائی حاصل ہوئی۔
وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ؕ اِنَّ اللہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ ؕ قَدْ جَعَلَ اللہُ لِکُلِّ شَیۡءٍ قَدْرًا ﴿۳﴾
ترجَمہ کنز ُالایمان: اور جو اﷲ پر بھروسا کرے تو وہ اسے کافی ہے۔ بے شک اﷲ اپنا کام پورا کرنے والا ہے ۔بے شک اﷲ نے ہر چیز کا ایک اندازہ رکھا ہے ۔ (الطلاق / ۳)
پس میں نے اﷲتعالیٰ ہی پر تَوَّکُل و بھروسہ کیا۔ وہی میرے لیے چارہ ساز ہے۔ اور وہ بہترین کا رساز ہے ۔
جب حضرت سیِّدُنا شفیق بلخی علیہ رحمۃ الحیّ نے یہ فائدے سماعت فرمائے ،تو ارشاد فرمایا (اے حاتم! علیہ رحمۃ الحَکَم )اﷲ تعالیٰ تجھے ( ان پر اخلاص و استقامت کے ساتھ عمل کرنے کی ) توفیق سے مالا مال فرماد ے ۔ میں نے تَورات و اِنجیل ، زبُور اور قرآن مجید کی تعلیمات پر غور کیا ، تو ان چاروں مقدّس آسمانی کتابوں کو انہی آٹھ فوائد پر مشتمل پایا۔ لہٰذا جس خوش نصیب نے ان