Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
32 - 53
حسد کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔ اور اس حسد کی اصل وجہ شان و عظمت ، مال و دولت اور علم ہے تَو میں نے قرآنِ کریم کی اس آیت پر غور کیا ۔
نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَھُمْ مَّعِیْشَتَھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا
ترجَمہ کنز ُالایمان: ہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا۔                             (الزخرف / ۳۲)
لہٰذا میں نے اس بات کو بخوبی جان لیا کہ مال ودولت ، شان و عظمت کی تقسیم اﷲ تعالیٰ نے اَزل ہی سے فرما دی ہے ( کہ اﷲ تعالیٰ نے جس کے لیے جو چاہا مقدر فرمادیا اور اس میں کسی کو کچھ اختیار نہیں ) اس لیے میں کسی سے حسد نہیں کرتا اور ربّ ِکریم عزَّوجلْ کی تقسیم و تقدیر پر راضی ہوں ۔
چھٹا فائدہ:
میں نے لوگوں پر نگاہ ڈالی، تو ہر ایک کوایک دوسرے سے کسی غرض اور سبب کی وجہ سے عداوت و دشمنی کرتے پایا ۔لہٰذا میں نے اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد ِمبارک پر خوب غورو فکرکیا ۔
 اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا ۔
ترجَمہ کنز ُالایمان: بے شک شیطان تمھار ا دشمن ہے، تو تم بھی اسے دشمن سمجھو ۔ ( فاطر /۶)
پس یہ بات مجھ پر ظاہر ہوئی کہ سوائے شیطان کے کسی اور سے ( اپنی ذات کے لیے ) دشمنی نہیں رکھنی چاہیے ۔ (تو مجھے اپنے دشمن کا سراغ مل گیا اور اس کے سوا کسی سے دشمنی نہ رہی)
ساتواں فائدہ :
میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ہرشخص روزی اور مَعاش کی تلاش میں کافی محنت اور کوشش کے ساتھ سرگرداں ہے۔ اور اس سلسلے میں حلال و حرام کی بھی تمیز نہیں کررہابلکہ مشکوک اور حرام کمائی کے حُصُول کے لئے ذلیل و خوا ر ہو رہا ہے ۔ لہٰذا میں نے ربّ ِکریم عزَّوجلْ کے اس ارشادِ گرامی میں غور و فکر کیا ۔
Flag Counter