میں نے لوگوں پر نگاہ ڈالی، تو ہر ایک کوایک دوسرے سے کسی غرض اور سبب کی وجہ سے عداوت و دشمنی کرتے پایا ۔لہٰذا میں نے اﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد ِمبارک پر خوب غورو فکرکیا ۔
اِنَّ الشَّیْطٰنَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوْہُ عَدُوًّا ۔
ترجَمہ کنز ُالایمان: بے شک شیطان تمھار ا دشمن ہے، تو تم بھی اسے دشمن سمجھو ۔ ( فاطر /۶)
پس یہ بات مجھ پر ظاہر ہوئی کہ سوائے شیطان کے کسی اور سے ( اپنی ذات کے لیے ) دشمنی نہیں رکھنی چاہیے ۔ (تو مجھے اپنے دشمن کا سراغ مل گیا اور اس کے سوا کسی سے دشمنی نہ رہی)
میں نے لوگوں کو دیکھا کہ ہرشخص روزی اور مَعاش کی تلاش میں کافی محنت اور کوشش کے ساتھ سرگرداں ہے۔ اور اس سلسلے میں حلال و حرام کی بھی تمیز نہیں کررہابلکہ مشکوک اور حرام کمائی کے حُصُول کے لئے ذلیل و خوا ر ہو رہا ہے ۔ لہٰذا میں نے ربّ ِکریم عزَّوجلْ کے اس ارشادِ گرامی میں غور و فکر کیا ۔