| بیٹے کو نصیحت |
ترجَمہ کنز ُالایمان: جو تمھارے پاس ہے ہو چکے گا اور جو اﷲ کے پاس ہے ہمیشہ رہے گا ۔
( النحل / ۹۶)تَومیں نے جو کچھ جمع کیا تھا ،اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لیے مسکینوں میں تقسیم کر دیا تاکہ یہ ربّ ِکریم عزَّوجلْ کے پاس ذخیرہ ہو جائے ،اور مجھے آخرت میں اس سے فائدہ پہنچے ۔
چو تھا فائدہ:
میں نے دیکھا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شان و شوکت اور عزّت و شرافت کا میعار بڑی قوم اور قبیلے سے تعلق رکھنے کی بنا پر ہے۔ لہٰذا اس وجہ سے لوگ اپنے آپ کو معزَّزّ و مکرَّم سمجھتے ہیں ۔
بعض کا گمان یہ ہے کہ دولت کی فراوانی اور کثرتِ اہلُ و عَیال سے عزّت ملتی ہے۔ ایسے لوگ اپنی دولت اور اولاد پر فخر کرتے ہیں ۔
بعض لوگ ایسے ہیں ،جو اپنی عزّت و شرافت دوسروں کا مال لوٹنے ،ان پر ظلم کرنے اور ان کا خون بہانے میں سمجھتے ہیں ۔
بعض لوگوں کی سوچ یہ ہو تی ہے کہ مال ضائع کرنے اور اِسراف و فُضول خرچی ہی میں عزّت و بزرگی پوشیدہ ہے ۔جب میں نے اﷲ تعالیٰ کے اس ارشادِ مبارک پر غور کیا ۔
اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ
ترجَمہ کنز ُالایمان: بے شک اﷲ کے یہاں تم میں زیادہ عزّت والا وہ ہے، جو تم میں زیادہ پرہیز گار ہے ۔ ( الحجرات / ۱۳)
تَو میں نے تقوٰی اور پرہیز گاری کو اختیار کیا۔ اور میں نے یقینِ کامل کرلیا کہ اﷲ تعالیٰ کاکلام حق اور سچ ہے، جبکہ لوگوں کے گمان اورنظریات سب کے سب جھوٹے اور باطل ہیں ۔
پانچواں فائدہ:
میں نے دیکھا کہ لوگ ایک دوسرے کی برائی بیان کرتے ہیں۔ اور خوب غیبت کا شکار ہو تے ہیں ۔اس کے اسباب پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ