| بیٹے کو نصیحت |
آپ سے کہا۔بندے کا سب سے اچھا ، محبوب اور بہترین دوست تو وہ ہے جو اس کے ساتھ قبر میں جائے اور وہاں کی وحشت و گھبراہٹ کی گھڑیوں میں اس کا مُونس اور غم خوار ہو، تو مجھے سوائے '' نیک اعمال '' کے کوئی اس قابل نظر نہ آیا تو میں نے نیک اعمال سے دوستی کر لی۔ ( سنّتوں کا عامل بنا) تاکہ یہ میری قبر کو روشن کریں اور مجھے ان سے اُنس ملے اور یہ مجھے تنہا نہ چھوڑیں ۔
دوسرا فائدہ :
میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنی اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور اپنے نفس کی ہر خواہش کو پورا کرنے کیلئے بڑی تیزی سے کام لیتے ہیں ۔چنانچہ میں نے ربّ ِکریم عزَّوجلْ کے اس ارشادِ گرامی میں غور و فکر کیا ۔
وَ اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَ نَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی ﴿ۙ۴۰﴾فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاۡوٰی ﴿ؕ۴۱﴾
ترجَمہ کنز ُالایمان:اور جو اپنے ربّ کے حُضورکھڑے ہو نے سے ڈرا ،اور نفس کو خواہش سے روکا تو بے شک جنّت ہی ٹھکانہ ہے ۔ (النّٰزعٰت / ۴۱،۴۰)
مجھے یقین ہے کہ قرآنِ حکیم حق ،اور اﷲ تعالیٰ کا سچاکلام ہے۔ لہذامیں نے اپنے نفس کی مخالفت شروع کردی۔ اور ریاضت و مجاہدات کی طرف مائل ہوا۔ اور نفس کی کوئی خواہش اس وقت تک پوری نہ کی، جب تک یہ اﷲ تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری میں راضی نہ ہوا۔ یہاں تک کہ اس نے اَحکامِ الٰہی عزَّوجلْ کے سامنے اپنے سر کو جھکا دیا۔ اور سچا مطیع و فرمانبردار بن گیا۔
تیسرا فائدہ:
میں نے دیکھا ہر آدمی دنیاوی مال و دولت جمع کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اور پھر بڑا خوش ہے کہ اس کے پاس بہت سامان و متاع ہے ۔ پس میں نے اﷲ تعالیٰ کے اس ارشادِ پاک پر غور کیا ۔
مَاعِنْدَکُمْ یَنْفَدُ وَمَاعِنْدَ اللّٰہِ بَاقٍ ۔