Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
29 - 53
(ترجمہ ) جتنا دُینا میں رہنا ہے، اُتنا دنیا کے لیے ، اور جتنا عرصہ قبرو آخرت میں رہنا ہے ، اُتنی قبروآخرت کی تیاری میں مشغول ہو جا ۔ اور اﷲ تعالیٰ کیلئے اتنا عمل کر جتنا تُو اس کا محتاج ہے۔ اور نارِ جہنّم کے لیے اتنا عمل کر جتنی تجھ میں قوتِ برداشت ہے ۔
   اے نورِ نظر !
    جب تو اس حدیث ِپاک پر ہی عمل کریگا ،تو پھر تجھے کثرتِ علم ( غیر ضروری ) کی کچھ ضرورت نہیں ۔(بلکہ صرف اور صرف اپنے علم پر عمل ہی کی ضرورت ہے)
تیس سالہ دورِ طالبِ علمی کا حاصل
ایک اور حکایت سے اپنے لیے عمل کا جذبہ حاصل کرلے،کہ حضرت سیِّدُنا حاتم اصم علیہ رحمۃ الحَکَم، حضرت سیِّدُنا شفیق بلخی علیہ رحمۃ الحیّی کے شاگردوں میں سے تھے ، ایک دن حضرت سیِّدُنا شفیق بلخی علیہ رحمۃ القوی نے پوچھا اے حاتم! ( علیہ رحمۃ الحَکَم) تُو نے تیس سال میری صحبت میں گزار ے، اتنے عرصہ میں تُو نے کیا حاصل کیا ؟حضرت سیِّدُنا حاتم اصم علیہ رحمۃ الحَکَم نے جواب دیا ۔میں نے علم کے آٹھ فوائد حاصل کیے ہیں، جو کہ میرے لیے کافی ہیں ۔( کہ ان پر اخلاص و استقامت کے ساتھ عمل کی صورت میں ) مجھے اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب سے نجات پاجانے میں کامیاب ہو جاؤں گا ۔ حضرت سیِّدُنا شفیق بلخی علیہ رحمۃ الحیی ّنے فرمایا ۔ بتاؤ وہ آٹھ فوائد کون کون سے ہیں ؟حضرت سیِّدُنا حاتم اصم علیہ رحمۃ الحَکَم ارشاد فرمانے لگے۔
پہلا فائدہ:
میں نے لوگوں کو بنظر ِغور دیکھا کہ ان میں سے ہر ایک کا کوئی نہ کوئی محبوب و معشوق ہے، جس سے وہ محبت کرتا ہے او ر عشق کا دم بھرتا ہے ، لیکن لوگوں کے محبوب ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی مرضُ الموت تک ساتھ دیتے ہیں اور کچھ قبر تک ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ پھر ان میں سے ہر ایک واپس لوٹ آتا ہے۔ اور اسے قبر میں تنہا چھوڑ دیتے ہیں ۔اور ان میں سے کوئی بھی اس کے ساتھ قبر میں نہیں جاتا ۔لہٰذا میں نے غور و فکر کیا اور اپنے
Flag Counter