| بیٹے کو نصیحت |
مسائل کو ( اپنی کتاب ) اِحیا ء ُالْعُلوم وغیرہ میں تفصیل کیساتھ ذکر کیا ہے۔ جبکہ یہاں ہم ان میں سے کچھ کا ذکر کرتے ہیں ۔اور بعض کی جانب اشارہ کرتے ہیں ۔
مُرید کے لیے لازم اور ضروری اُمور
سالک ( مرید) کے لیے چار چیزیں ضروری ہیں ۔
(۱)ایسا صحیح عقیدہ جس میں بدعت شامل نہ ہو ۔ (۲)ایسی سچّی توبہ کہ پھر گناہوں کی طرف نہ پلٹے ۔ (۳)جو ناراض ہیں انہیں راضی رکھنا، تاکہ اس پر کسی کا کوئی حق باقی نہ رہے ۔ (۴)اتنا علمِ دین حاصل کرنا کہ اﷲ تعالیٰ کے اَحکامات کوبہتر طریقے سے ادا کیا جاسکے ۔ پھر عُلُومِ آخرت میں سے بھی اتنا علم ہو کہ جس پر عمل کرنے سے نجات ممکن ہو
چار ہزار احادیث میں سے صرف ایک؟
حضرت سیِّدُنا شیخ شِبلی علیہ رحمۃالولی نے چار سو علماء کرام کی خدمت میں رہ کر علم دین حاصل فرمایا ۔آپ رحمتہ اﷲ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں۔ میں نے چار ہزار احادیث مبارکہ پڑھیں ،پھر میں نے ان میں سے ایک حدیثِ پاک کو منتخب کیا اور اس پر عمل پیرا ہوا اور باقی حدیثوں کو چھوڑ دیا ۔ کیونکہ میں نے اس حدیث ِپاک میں خوب غور و فکر کیا ،تو عذابِ الہٰی عزَّوجلْ سے چھٹکارا، اور اپنی نجات وکامیابی اسی میں پائی۔ اور عُلُومِ اوّلین و آخرین کو اس میں موجود پایا ۔لہذا اسے اپنے عمل کے لیے کافی قرار دیا۔ وہ ( پیاری پیاری، مَہکی مَہکی) حدیثِ مبارکہ یہ ہے۔ کہ رسول ِاکرم، رحمتِ د و عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم نے بعض صحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیھم اجمعین سے ارشاد فرمایا۔
اِعْمَلْ لِدُنْیَا کَ بِقَدْرِ مَقَامِکَ فِیْھَا وَ اعْمَلْ لِآخِرَتِکَ بِقَدْرِ بَقَاءِ کَ فِیْھَا وَ اعْمَلْ لِلّٰہِ بِقَدْرِ حَاجَتِکَ اِلَیْہِ وَاعْمَلْ لِلنَّارِ بَقَدْرِ صَبْرِکَ عَلَیْھَا