Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
27 - 53
ہوتی ہیں نہ کہ (ان نام نہاد صوفیوں کی) کشف و کرامات اور غیر مفید حرکات و سکنات سے ( کیونکہ اﷲ عزَّوجلْ کا دوست بننے کے لیے تجھے پیرِ کامل کی تربیت کے مطابق مجاہدہ کرنا پڑے گا۔ جبکہ کسی بے عمل صوفی کی شعبدہ بازیوں سے متاثر ہو کر اسے اپنی کامیابی اور منزل تک رسائی کے لیے کافی قرار دینا سوائے بے وقوفی کے کچھ نہیں) اوراس بات کو بھی بخوبی سمجھ لے !زبان کا بے باک ہونا، اور دل کا غفلت وشہوت سے بھرا ہونااور دنیاوی خیالات ہی میں ڈوبا رہنا شقاوت و بد بختی کی علامت ہے ۔ جب تک نفس کی خواہشات کو کامل مجاہدہ و ریاضت سے ختم نہیں کریگا ،اس وقت تک تیرے دل میں معرفت کی روشنی پیدا نہیں ہوگی ۔
    اے پیارے بیٹے !
    تُو نے بعض ایسے مسائل مجھ سے دریافت کیے ہیں، جن کا جواب تحریری اور زبانی طور پر پوری طرح بیان نہیں ہو سکتا ۔اگر تُو اس حالت تک پہنچ گیا ،تَو خود بخود تجھے تیرا جواب مل جائے گا ۔ اگر ایسا نہ ہو سکا تَو ان کا جاننا محال ہے ۔کیونکہ ان کا تعلق ذوق سے ہے ۔اور ہر وہ چیز جس کا تعلق ذوق سے ہو، اسے زبانی بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جیسے میٹھی چیز کی مٹھاس اور کڑوی چیز کی کڑواہٹ کو صرف چکھ کر ہی جانا جا سکتا ہے ۔
کسی نامرد نے اپنے دوست کو تحریر کیا کہ وہ اسے مُجامعت کی لذّت سے آگاہ کرے ، تَو اس کے دوست نے جواباً لکھا کہ میں تَو تجھے صرف نامرد سمجھتا تھا اب معلوم ہوا کہ نامرد ہونے کے ساتھ ساتھ تُو بے وقوف بھی ہے ۔اس لذّت کا تعلق تَو ذوق سے ہے اگر تُو قوت مُجامعت پر قادر ہو گیا تَو اس کی لذّت سے بھی آشنا ہو جائے گا وگرنہ اسے بیان نہیں کیا جا سکتا ۔
    اے لختِ جگر !
    تیرے بعض مسائل تَو اِسی قسم کے ہیں ۔( کہ جن کا تحریری جواب دینا ضروری نہیں) لیکن بعض پوچھے گئے مسائل ایسے بھی ہیں ،جن کا جواب دیا جاسکتا ہے۔ اور ہم نے ان
Flag Counter