Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
26 - 53
سے خوب محبت کرنے والا ہوں۔ ہائے افسوس! کہ جانور بھی روتے ہیں اور میں محبتِ الہٰی عزَّوجلْ کا مُدَّعی ودعویدار ہوکر بھی کبھی رونہ سکا ۔
اطاعت و عبادت کی حقیقت 

    اے پیارے بیٹے !
    علم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ !'' تُو جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کیا ہے؟ '' ( سُن لو کہ!)اﷲ تعالیٰ کے محبوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم کے اَوامِرونَواہی( یعنی نیکی کرنے اوربرائی سے روکنے کے احکامات) کی اتّباع کرنے کا نام اطاعت و عبادت ہے۔ خواہ ان کا تعلق گفتار سے ہو یا کردار سے یعنی جوکچھ کرے یا نہ کرے ، بولے یا نہ بولے یہ سب کچھ شریعت کے مطابق ہونا چاہیے ۔(اس طرح کہ تیرا ہر عمل سنّتِ مُصطفٰے صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم کا آئینہ دار ہو ۔ اگر تُو کوئی کام کرے اور وہ تجھے بظاہر عبادت معلوم ہو ،لیکن اگر وہ کام سرکا ر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم کے قول وفعل کے مطابق نہیں ،تو یہ کام عبادت میں شمار نہ ہو گابلکہ تُو گناہ گار ہو گا ،خواہ وہ نماز روز ہ ہی کیوں نہ ہو) مثلاً تُو عید کے دن یا اَیّام تشریق کو روزے رکھے گاتو  گناہ گار ہو گا۔یا غصب شدہ کپڑوں میں نمازپڑھے گا،اگرچہ یہ عبادات سے تعلق رکھتے ہیں ،مگر پھر بھی تجھے گناہ ملے گا
    اے لختِ جگر !
    تیرا ہر عمل اور گفتگو شریعت کے مطابق ہو ۔کیونکہ ہر وہ علم و عمل جو نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ و سلَّم کی شریعت کے مطابق نہیں ،وہ گمراہی اور حق سے دوری ہے ۔ تجھے نام نہاد صوفیوں ( بے عمل پیروں ) کی فریب کاری اور شعبدہ بازی و عیّاری سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کیونکہ سُلُوک کی منزلیں تونفس کی لذتوں اور خواہشات کو مجاہدے کی تلوار سے کاٹنے سے طے
Flag Counter