| بیٹے کو نصیحت |
جب سَحَر ی کا وقت ہوتا ہے۔ تو فرشتہ ایک مرتبہ پھر ندا دیتا ہے۔ اب اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں استغفار کرنے والوں کو اُٹھ جا نا چاہیے ۔چنانچہ ایسے خوش نصیب اُٹھ جاتے ہیں اور اپنے ربِّ غفّار عزَّوجلْ سے مغفرت طلب کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور جب فجر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔ تَو فرشتہ پکارتا ہے ۔اے غافلو !اب تَو اُٹھو ۔پھر یہ لوگ اپنے بستروں سے یوں اُٹھتے ہیں، جیسے مردے ہیں جنھیں ان کی قبروں سے نکال کر پھیلا دیا گیا ہے ۔
اے لختِ جگر !
حضرت سیِّدُنا لقمان علیہ ر حمۃ المنّان کی وصیتوں میں یہ بھی ہے ،کہ آپ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے اپنے بیٹے کو ارشاد فرمایا۔
اے نورِ نظر !کہیں مرغ تجھ سے زیادہ عقل مند ثابت نہ ہو، کہ و ہ تَو صبح سویرے اُٹھ کر اذان دے ( اپنے پروردگار عزَّوجلْ کو یاد کرے )اور تو (غفلت میں ) پڑا سو تارہ جائے ۔
کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے ۔
؎ لَقَدْ ھَتَفَتْ فِیْ جُنْحِ لَیْلٍ حَمَامَۃُ عَلٰی فَنَنٍ و َھْناً وَ اِنِّی لَنَائِمُ کَذَبْتُ وَبَیْتِ اللہِ لَوْ کُنْتُ عَاشِقاً لَمَّا سَبَقَتْنِیْ بِالْبُکَاءِ الحَمَائِمُ وَ اَزْعَمُ اِنِّیْ ھَائِمٌ ذُوْصَابَۃٍ لِرَبِّیْ فَلَا اَبْکِیْ وَ تَبْکِی الْبَھَائِمُ
(ترجمہ)رات کو تَوفاختہ شاخ پر بیٹھی آوازیں لگار ہی ہے اور میں خوابِ غفلت کا شکار ہوں ۔ اﷲ تعالیٰ کی قسم !میں اپنے دعوٰی عشق میں جھوٹا ہوں ۔اگر میں اﷲ تعالیٰ کا سچا عاشق ہوتا، تو فاختہ رونے میں مجھ سے سبقت نہ لے جاتی۔ میرا گمانِ فاسد تھا کہ میں اﷲ تعالیٰ