ثَلَاثَۃُ اَصْوَاتٍ یُحِبُّھَا اللہُ تَعَالیٰ صَوْتَ الدِّیْک وَ صَوْتَ الَّذِیْ یَقْرَءُ الْقُرْاٰنَ وَصَوْتَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَ سْحَارِ ۔
اﷲ تعالیٰ کو تین آوازیں پسند ہیں ۔ مرغ کی آواز ( جو صبح نماز کے لیے جگاتی ہے ) تلاوتِ قرآن پاک کی آواز اور صبح سویرے اپنے گناہوں سے مُعافی طلب کرنے والے کی آواز۔
(الفردس بمأثور الخطاب: امّ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہما ج ۲ ص ۱۰۱ رقم الحدیث ۲۵۳۸ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری علیہ ر حمۃ الباری ارشاد فرماتے ہیں ۔ ا ﷲ تعالیٰ نے ایک ہوا پیدا فرمائی ہے۔ جو سَحَری کے وقت چلتی ہے۔ اوراس وقت ذکر ِالہٰی عزَّوجلْ میں مگن اور گناہوں سے مُعافی مانگنے میں مشغول ،خوش نصیبوں کی آوازوں کو ربّ ِکریم عزَّوجلْ کی بارگاہ میں پیش کرتی ہے ۔ آپ رحمۃ اﷲ تعالیٰ علیہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا۔ رات شروع ہونے پر ایک فرشتہ عرش کے نیچے سے یہ ندا دیتا ہے ، کہ اب عبادت گزاروں کو اُٹھ جانا چاہیے۔ چنانچہ عبادت گزار کھڑے ہو جاتے ہیں اور جتنی دیر اﷲ تعالیٰ چاہتا ہے ،نوافل ادا کرتے ہیں ۔ جب آدھی رات گزر جاتی ہے ۔ تو فرشتہ دوبارہ ندا کرتا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ کے فرمانبرداروں کواُٹھ جانا چاہیے۔ تو اطاعت گزار اپنے بستروں سے اُٹھ کر سَحَری تک عبادت میں مشغول رہتے ہیں