تاجدارِ رسالت ، شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مَخزنِ جُودوسخاوت، محبوبِ ربُّ العزَّت، محسنِ انسانیت عزَّوجلْ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ وسلَّم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں سے کسی کو ارشاد فرمایا ۔
لَاتُکْثِرِالنَّوْمَ بِا للَّیْلِ فَاِنَّ کَثْرَۃَالنَّوْمِ بِاللَّیْلِ تَدْعُ صَاحِبَہٗ فَقِیْراً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ
رات کو زیادہ نہ سویا کرو کیونکہ شب بھر سونے والا ( نفلی عبادات نہ کرنے کے باعث ) بروز ِقیامت (نیکیوں کے سلسلے میں ) فقیر ہو گا ۔
(تذکرۃُ الحفّاظ ـ: المجلّد الاوّل الجزء ۲ ص ۱۳۳ . الطّبقۃ التّاسعۃ ( الطّرطوسی الحافظ البارع ابوبکر محمد بن عیسیٰ بن یزید التّیمیمی ) دار الکتب العلمیۃ بیروت )
( قرآنِ مجید میں یہ فرمان موجود ہے ۔ )
وَ مِنَ اللَّیْلِ فَتَھَجَّدْ بِہٖ
ترجَمہ کنز ُالایمان: اور رات کے کچھ حصّہ میں تہجّد ادا کرو۔ ( بنی اسرآئیل / ۷۹)
یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ۔
وَ بِالْاَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوۡنَ ﴿۱۸﴾
ترجَمہ کنز ُالایمان: اور پچھلی رات اِستغفار کرتے۔ ( ذاریات / 18)
یہ شکرہے ۔ ( یعنی قبولیتِ توبہ کی دلیل ہے)
وَالْمُسْتَغْفِرِیۡنَ بِالۡاَسْحَارِ ﴿۱۷﴾