پس ایسی صورت میں بے خوف نہ ہو کہ، اس دنیا سے سیدھا جہنّم کی آگ میں جانا پڑے گا ۔
ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری علیہ رحمتہ الباری کی خدمت میں ٹھنڈا پانی پیش کیا گیا ۔ پیالہ ہاتھ میں لیتے ہی آپ رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ پر غشی طاری ہو گئی اور پیالہ دستِ مبارک سے نیچے گر گیا ۔ جب کچھ دیر بعد اِفاقہ ہواتَو لوگوں نے پوچھا ۔ اے ابُو سعید !آپ کو کیا ہو گیا تھا ؟ فرمایا مجھے جہنّمیوں کی وہ اِلتجائیں یاد آگئیں ، جو وہ جنّتیّوں سے کریں گے ۔
اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ
ترجَمہ کنز ُالایمان: کہ ہمیں اپنے پانی کا فیض دو یا اُس کھانے کا جو اللہ نے تمھیں دیا ۔
( الاعراف /۵۰)صرف حُصُولِ علم ہی کافی نہیں
اے پیارے بیٹے !اگر صرف علم حاصل کرنا ہی کافی ہوتا اوراس پر عمل کی ضرورت نہ ہوتی تَو صبحِ صادق کے وقت اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان بے کار ہوتا ۔اور اس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا ۔
اگر صرف علم حاصل کرنا ہی کافی ہوتا اوراس پر عمل کی ضرورت نہ ہوتی تَو صبحِ صادق کے وقت اللہ تعالیٰ کا یہ اعلان بے کار ہوتا ۔اور اس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا ۔
ہے کوئی اپنی حاجت طلب کرنے والا ؟ ہے کوئی تَوبہ کرنے والا ؟ ہے کوئی گناہوں سے مُعافی چاہنے والا ؟
( مسند اما م احمد بن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( مسند ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ج ۴ ص ۶۹ رقم الحدیث ۱۱۲۹۵ دار الفکر بیروت)
ایک مرتبہ کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے محبوبِ ربِّ داور ، خَلْق کے رہبر ، ساقیِ کوثر ، شفیعِ روزِمَحشر، عزَّوجلْ و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ وسلَّم کے سامنے حضرت عبد اللہ بن