Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
21 - 53
    اے لختِ جگر!
    روح میں ہمّت پیدا کر ، نفس کے خلاف جہاد کر اور موت کو اپنے قریب تر جان ۔ کیونکہ تیری منزل قبر ہے ۔اور قبرستان والے ہر لمحہ تیرے مُنتظرہیں ۔ کہ تُو کب ان کے پاس پہنچے گا ؟خبردار ! خبردار ! ڈر اس بات سے کہ بغیر زادِ راہ کے تُو ان کے پاس پہنچ جائے ۔
سعادت مند اور بد بخت
امیرُ المؤمنین حضرت سیِّدُنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں ۔
یہ جسم پنجرے ہیں پرندوں کے لیے ( یعنی ایسی سعادت مند روحوں کے لئے ،جو ہر لمحہ عالم بالا کی جانب پرواز کے لئے بیتاب ہیں ) یا یہ جسم اَ صطبل ہیں جانوروں کے لیے( یعنی ایسی روحوں کے لئے جو نیک اعمال سے دور ہیں )
پس تُواپنی ذات میں غور کر کہ ان دونوں میں سے تیرا شُمار کس کے ساتھ ہے ؟اگرتُو عالمِ بالا کی جانب پرواز کے لئے بیتاب پرندوں میں سے ہے ۔تَو جب تَوتُو ( موت کے وقت ) یہ مَسحُور وخوش کُن آواز سنے گا ۔
اِرْجِعِیْ اِلٰی   رَبِّکِ
ترجَمہ کنز ُالایمان:اپنے ربّ کی طرف واپس ہو۔     ( الفجر/ ۲۸)
تَو فوراً تُو بلندیوں کی طرف پرواز کریگا ۔ اور جنّت کے اعلیٰ مقام پر جا پہنچے گا ۔جیسا کہ سیِّدِ اِنْس و جان ، رحمتِ عالمیان ،نبی ذیشان صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا ۔
اِھْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمٰنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موت سے عرشِ رحمٰن عزَّوجلْ فر حت و شادمانی سے جھوم اُٹھا۔
( صحیح البخاری : کتاب مناقب الانصار ، باب. مناقب سعد بن مُعاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ج ۲ ص ۵۶۰ رقم الحدیث ۳۸۰۳ دار الکتب العلمیۃ بیروت)
اور اللہ تعالیٰ کی پناہ کہ تیر ا شُمار جانوروں میں ہو ۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ۔
Flag Counter