Brailvi Books

بیٹے کو نصیحت
20 - 53
والسَّلام ارشاد فر ماتے ہیں ۔ جس وقت میِّت کو چارپائی پر رکھ کر قبر تک لایا جاتا ہے ، اس دوران اللہ تعالیٰ اس میِّت سے چالیس سُوال کرتا ہے ۔ ان میں سے پہلا سُوال یہ ہے ۔ '' اے میرے بندے ! لوگوں کو حسین و جمیل نظر آنے کے لیے برسوں تُو اپنے آپ کو سنوارتا رہا ، لیکن جس چیز (یعنی دل )پر میری نظرِ (رحمت) ہوتی ہے ۔ اسے تُو نے ایک لمحہ بھی پاک اور صاف نہ کیا ؟ ''(اے انسان ! ) ہر روز اللہ تعالیٰ تیرے دل پر نظر کرتا اور ارشاد فرماتا ہے ۔ تیرازیب و زینت کرنا لوگوں کو دکھانے کے لیے ہوتا ہے ، حالانکہ تُو میری طرف سے حاصل کردہ بھلائیوں ( نعمتوں )میں گھِرا ہوا ہے ۔ ( پھر بھی میری فرمانبرداری و اطاعت کی طرف مائل نہیں ہو تا ؟ ) کیا تُو بہرہ ہو چکا ہے ؟ تجھے کچھ سنائی دیتا ہے ؟ ''
غیر مفید اور بے فائدہ علم

             اے پیارے بیٹے!
    علم کے بغیر عمل پاگل پن اور دیوانگی سے کم نہیں ۔ اور عمل بغیر علم کے نا ممکن ہے۔ (اس بات کو اپنی گرہ سے باندھ لو! کہ ) جو علم آج تجھے گناہوں سے دُور نہیں کر سکا ، اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت ( و عبادت ) کا شوق پیدا نہ کر سکا ، تَو یاد رکھ ! یہ کل قیامت میں تجھے جہنّم کی ( بھڑکتی ہو ئی ) آگ سے بھی نہیں بچا سکے گا ۔ اگر آج تُو نے نیک عمل نہ کیا، ( سنّتوں کے سانچے میں ڈھل کر با عمل نہ بنا ) اور گزرے ہوئے وقت کا تَدارُک نہ کیا، تَوکل قیامت میں تیری ایک ہی پُکار ہوگی ۔
فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا
ترجَمہ کنز ُالایمان: ہمیں پھر بھیج کہ نیک عمل کریں۔     ( السّجدہ/ ۱۲)
تَو تجھے جواب دیا جائے گا ، اے اَحمق و نادان ! تُو وہیں سے تَو آرہا ہے۔
Flag Counter