گھر سے سیدھے اپنے گھر آپہنچے اور کہنے لگے: ناشتا لائیے! میں نے کہہ جو دیا تھا کہ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ناشتا گھر آکر کروں گا۔ (تجلّیاتِ امام احمد رضا ص ۱۰۰بِتَصَرُّفٍ، برکاتی پبلشرز بابُ المدینہ کراچی ) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
آہیں دلِ اَسیر سے لب تک نہ آئی تھیں
اورآپ دوڑے آئے گرفتار کی طرف (ذوقِ نعت)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مُشکل کُشا کا دیدار
بعض اِسلامی بھائیوں کو بابُ المدینہ کراچی کے ایک مُعَمَّر کاتِب عبدالْمَاجِد بن عبدالمالِک پیلی بھیتی نے یہ ایمان افروز واقِعہ سُنایا: میری عُمر اُس وَقت تیرہ برس تھی، میری سُوتیلی والِدہ کا ذِہنی توازُن خراب ہوگیا تھا، اُن کو زَنجیروں میں جکڑ کر چھَت پر رکھا جاتا تھا، بَہُت علاج کروایا مگر اِفاقہ نہ ہوا ۔ کسی کے مشورہ پر میں اور میرے والِد صاحِب والِدہ کو زنجیروں میں جکڑ کر جُوں تُوں پیلی بھیت سے بریلی شریف لائے،والِدئہ محترمہ مسلسل گالیاں بکے جارہی تھیں۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن کو دیکھتے ہی گرج کر کہا: تم کون ہو؟ یہاں کیوں آئے ہو؟آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اِنتہائی نرمی سے فرمایا :محترمہ ! آپ کی بہتری کے لیے حاضِر ہوا ہوں۔ والِدہ بدستور گرج کر بولیں۔ بڑے آئے بہتری کرنے والے! جو چاہتی ہوں و ہ بہتری کردو گے؟ فرمایا: اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ۔ والِدہ نے کہا: