Brailvi Books

بریلی سے مدینہ
7 - 20
پھانسی گھر سے اپنے گھرتک
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن کے ایک مُرید امجد علی خان قادِری رضوی شکار کے لیے گئے۔ اُنہوں نے جب شکار پر گولی چلائی تو نِشانہ خطاہوگیا اور گولی کسی راہگیر کو لگی جس سے وہ ہَلاک ہوگیا، پولیس نے گِرفتار کرلیا، کور ٹ میں قتل ثابت ہوگیا اور پھانسی کی سزا سنادی گئی۔ عزیز و اَقرِبا تاریخ سے پہلے روتے ہوئے مُلاقات کے لیے پہنچے تو امجد علی صاحِب کہنے لگے:آپ سب مُطمئن رہئے مجھے پھانسی نہیں ہوسکتی کیونکہ میرے پیرومرشِد سیِّدی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے خواب میں آکر مجھے یہ بِشارت دے دی ہے:’’ہم نے آپ کو چھوڑ دیا۔‘‘رو دھو کر لوگ چلے گئے۔ پھانسی کی تاریخ والے روز مامتا کی ماری ماں روتی ہوئی اپنے لال کا آخِری دیدار کرنے پہنچی۔ سُبْحٰنَ اللہ سُبْحٰنَ اللہ اپنے مرشِد پر اِعتِقاد ہو تو ایسا! ماں کی خدمت میں بھی بڑے اِعتماد سے عرض کردی:’’ماں آپ رَنجیدہ نہ ہوں ، گھر جائیے،  اِنْ شَآءَ اللہ آج کاناشتا میں گھر آکر ہی کروں گا۔‘‘ والِدہ  کے جانے کے بعد امجد علی کو پھانسی کے تختے پر لایا گیا، گلے میں پھندا ڈالنے سے پہلے حسبِ دستور جب آخِری آرزو پوچھی گئی تو کہنے لگے:’’ کیا کرو گے پوچھ کر؟ ابھی میراوَقت نہیں آیا ۔ ‘‘ وہ لوگ سمجھے کہ موت کی دَہشت سے دِماغ فَیل ہوگیا ہے! چُنانچہ پھانسی گَرنے پھندا گلے میں پہنادیا کہ تار آگیا:مَلِکہ وِکٹوریہ کی تاجپوشی کی خوشی میں اتنے قاتِل اور اِتنے قَیدی چھوڑ دیئے جائیں۔ فوراً پھانسی کا پھندا نکال کر ان کو تختے سے اُتار کر رِہا کردیا گیا۔ اُدھر گھر پر کُہرام مچا ہوا تھا اور لاش لانے کا اِنتظام ہورہا تھا کہ اَمجد علی قادِری رضوی صاحب پھانسی