’’مولا علی مُشکِلکُشا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ، الْکَرِیْم کا دیدار کروادو!‘‘ یہ سنتے ہی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اپنے شانۂ مبارَک سے چادر شریف اُتار کر اپنے چہرئہ مُبارک پر ڈالی اور مَعاً (یعنی فوراً) ہٹالی۔ اب ہماری نظروں کے سامنے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نہیں بلکہمولا علی مُشکِلکُشا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ، الْکَرِیْم اپنا چِہرہ چمکاتے کھڑے تھے۔ ہماری بوڑھی والدہ نِہایت سنجیدگی کے ساتھ جلووں میں گم تھیں ، میں نے اور والِدِ محترم نے بھی خُوب جی بھر کر جاگتی آنکھوں سے مولا علی مُشکِلکُشا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ، الْکَرِیْم کی زیارت کی۔ پھرمولا علی مُشکِلکُشا کَرَّمَ اللہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے اپنی چادر مُبارک اپنے چِہرے پر ڈال کر ہٹائی تو اب اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ ہمارے سامنے مُتَبَسِّم (یعنی مُسکراتے ) کھڑے تھے۔ پھر اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے ایک شِیشی میں دوا عطا فرمائی اورارشاد فرمایاـ:دو خُوراک دوا ہے، ایک خُوراک مریضہ کو دینا اگرضَرورت محسوس نہ ہو تو دوسری خُوراک ہر گز مت دینا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!ہماری والِدہ صِرف ایک خُوراک(یعنیDose) میں تندرُست ہوگئیں جب تک زندہ رہیں کوئی دِماغی خرابی نہ ہوئی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم
قسمت میں لاکھ پیچ ہوں سو بل ہزار کَج یہ ساری گُتھی اِک تِری سیدھی نظر کی ہے (حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد