کرکے بریلی شریف چل کر اِمامِ اہلسنّت حضرتِ مولانا امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن سے اپنا مسئلہ حل کروالیجئے۔ ڈاکٹر صاحِب نے حیرت سے کہا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ! کیا یہ ریاضی کا مسئَلہ کوئی ایسا مولانا بھی حل کرسکتا ہے جس نے کبھی کالج کا منہ تک نہ دیکھا ہو، نابابا ! بریلی شریف جا کر اپنا وَقت ضائِع نہیں کرسکتا۔ مگر سیِّدسُلیمان شاہ صاحِب رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے پَیہم اِصرار پر وہ ان کے ساتھ مدینۃُ المرشِد بریلی شریف حاضِر ہوگئے۔ امام اہلسنّت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی بارگاہ میں حاضری دی۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی طبیعت ناساز تھی لہٰذا ڈاکٹر صاحِب نے عَرض کی: مولانا ! میرا مسئلہ بے حد پیچیدہ ہے، ایک دم دریافت کرنے جیسا نہیں ، ذرا اطمینان کی صورت ہو تو عَرض کروں۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے فرمایا: آپ بیان کیجئے۔ ڈاکٹر صاحِب نے مسئَلہ پیش کیا امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے فوراً اس کا جواب ارشاد فرمادیا، جواب سُن کر ڈاکٹر صاحِب سَکتے میں آگئے اور بے اختیار بول اُٹھے کہ آج تک عِلمِ لَدُنّی(یعنی اللہ تعالی کی طرف سے براہِ راست ملنے والے علم) کا سنتے تو تھے مگر آج آنکھوں سے دیکھ لیا۔ میں تو اِس مسئلے کے حل کے لیے جرمنی جانے کا عَزم بِالجَزم کرچکا تھا مگر حضرتِ مولانا سیِّدسُلیمان اشرف قادری رِضوی صاحب رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے میری رہبری فرمائی۔ امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اپنا ایک قلمی رِسالہ منگوایا جس میں اکثر مُثَلَّثَوں اور دائروں کی شکلیں بنی ہوئی تھیں ، ڈاکٹر صاحِب بَحرِ حیرت میں غَرَق ہوئے جارہے تھے۔ کہنے لگے : میں نے تو اِس علم کو حاصِل کرنے کے لیے ملک بہ ملک سفر کیا، بڑا