Brailvi Books

بریلی سے مدینہ
17 - 20
تیری نسلِ پاک میں ہے بچّہ بچّہ نور کا
           تُو ہے عینِ نُور تیرا سب گھرانا نُور کا(حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دُنیوی علوم میں مَہارت کی نادِر حکایت
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس کی اُلفت ِ آلِ رسول کی یہ حالت ہو اس کے عشقِ رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کون اندازہ کرسکتا ہے!امامِ اہلسنَّت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ جہاں ایک عاشقِ رسول  اور باکرامت ولی تھے وَہیں ایک  زبردست عالمِ دین بھی تھے ، کم و بیش پچاس  عُلُوم پر آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کو کامِل دسترس (یعنی مَہارت) حاصِل تھی۔ دِینی عُلُوم کی بَرَکت سے دُنیوی عُلُوم خود آگے بڑھ کر آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے قدم چومتے تھے۔ اس ضِمن میں ایک حیرت انگیز واقِعہ پڑھئے اورجُھومئے ۔ چُنانچِہعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سر ضِیاء ُ الدِّین نے یورپ میں تعلیم حاصِل کی تھی اوربَرِّ صغیر کے صفِ اوّل کے رِیاضی دانوں میں سے ایک تھے۔ اِتِّفاق سے رِیاضی کے ایک مسئلے میں اِن کو مشکِل پیش آئی ،بُہتیرا سر کھپایا مگر حل سمجھ میں نہ آیا ۔ چُنانچہ جرمنی جا کراس مسئلے کو حل کرنے کا قَصد کیا۔ حضرتِ علامہ سیّد سُلَیمان اشرف صاحب قادِری رِضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہ القَوِی اس دَور میں یونیورسٹی کے شُعبۂ دِینیات کے ناظِم تھے ۔ اُنہوں نے ڈاکٹر صاحِب کو مشورہ دیا بلکہ اِصرار کیا کہ آپ جرمنی جانے کی تکلیف اُٹھانے کے بجائے یہاں سے چند گھنٹے کا سفر