Brailvi Books

بریلی سے مدینہ
16 - 20
پائی تھی کہ عالَمِ اسلام کے مُقتَدر پیشوا اور اپنے وَقت کے عظیم مجدِّد رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اپنا عِمامہ شریف اُس سیِّد زادے کے قدموں میں رکھ دیا۔ امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی آنکھوں سے ٹپ ٹَپ آنسو گررہے ہیں اور ہاتھ جوڑ کر اِلتِجا کررہے ہیں : مُعَزَّز شہزادے! میری گستاخی مُعاف کردیجئے، بے خَیالی میں مجھ سے بھول ہوگئی، ہائے غضب ہو گیا ! جن کی نَعلِ پاک میرے سرکا تاجِ عزّت ہے، اُن (یعنی شہزادے)کے کاندھے پر میں نے سُواری کی، اگر بروزِ قِیامت تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پوچھ لیا کہ احمد رضا! کیا میرے فرزند کا دَوشِ نازنین اِس لیے تھا کہ وہ تیری سُواری کا بوجھ اُٹھائے ؟تو میں کیا جواب دوں گا! اُس وَقت میدانِ محشر میں میرے ناموسِ عِشق کی کتنی زبردست رُسوائی ہوگی۔ کئی بار زَبان سے مُعاف کردینے کا اقرار کروالینے کے بعد امام اہلسنّت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے آخِری التجائے شوق پیش کی : محترم شہزادے! اس لاشُعُوری میں ہونے والی خطا کا کَفّارہ جبھی ادا ہوگا کہ اب آپ پالکی میں سُوار ہوں گے اور میں پالکی کو کاندھا دوں گا۔ اس اِلتجا پر لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور بعض کی تو چیخیں بھی بُلند ہوگئیں۔ ہزار انکار کے بعد آخِر کار مزدور شہزادے کو پالکی میں سُوار ہونا ہی پڑا۔ یہ منظر کس قَدَر دل سوز ہے ،اہلسنّت کا جلیلُ القَدر امام مزدوروں میں شامِل ہو کر اپنی خداداد علمیّت اور عالمگیرشُہرت کا سارا اِعزاز خوشنودیٔ محبوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خاطر ایک گُمنام مزدورشہزادے کے قدموں پر نثار کررہا ہے! (انوارِ رضا ص ۴۱۵) اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم