عَزَّ وَجَلَّ چاہے تو آج اور ابھی بارِش ہونے لگے۔ زَبانِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ سے اِتنا نکلنا تھا کہ چاروں طرف سے گھنگھور گھٹا چھا گئی اور جھوم جھوم کر بارِش برسنے لگی۔(انوارِ رضا ، ص ۳۷۵ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیاء لاہور) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
موت نزدیک گناہوں کی تہیں مَیل کے خَول
آ برس جا کہ نَہا دھو لے یہ پیاسا تیرا (حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مزدور شہزادہ
مدینۃُ المرشِد بریلی شر یف کے کسی مَحَلّے میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن مَدعُو تھے۔ اِرادت مندوں نے اپنے یہاں لانے کے لیے پالکی کا اِہتمام کیا۔ چُنانچِہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ سُوار ہوگئے اور چار۴ مزدور پالکی کو اپنے کندھوں پر اُٹھا کر چل دیئے۔ ابھی تھوڑی ہی دُور گئے تھے کہ یکایک امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے پالکی میں سے آواز دی:’’پالکی روک دیجئے‘‘ پالکی رُک گئی۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ فوراً باہَر تشریف لائے اور بَھرّائی ہوئی آواز میں مزدوروں سے فرمایا: سچ سچ بتایئے آپ میں سیِّدزادہ کون ہے؟ کیونکہ میرا ذَوقِ ایمان سرورِ دوجہان صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خوشبو محسوس کررہا ہے، ایک مَزدُور نے آگے بڑ ھ کر عَرض کی: حُضور ! میں سیِّدہوں۔ ابھی اس کی بات مُکمل بھی نہ ہونے