Brailvi Books

بریلی سے مدینہ
14 - 20
دل کی جو بات جان لے روشن ضمیر ہے
اُس حضرتِ رضا کو ہمارا سلام ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بارِش برسنے لگی
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن کی خدمت میں ایک نُجُومی حاضر ہوا ،  آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اُس سے فرمایا:کہئے، آپ کے حساب سے بارِش کب آنی چاہیے؟ اس نے زائچہ بنا کر کہا :’’ اس ماہ میں پانی نہیں آیَندہ ماہ میں ہوگی۔‘‘ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے فرمایا: اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر بات پر قادِر ہے وہ چاہے تو آج ہی بارِش برسادے۔ آپ سِتاروں کو دیکھ رہے ہیں اور میں ستاروں کے ساتھ ساتھ سِتارے بنانے والے کی قدرت کو بھی دیکھ رہا ہوں۔ دیوار پر گھڑی لگی ہوئی تھی آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے نُجُومی سے فرمایا :کتنے بجے ہیں ؟ عَرض کی: سوا گیارہ۔ فرمایا:بارہ بجنے میں کتنی دیر ہے؟ عرض کی: پون گھنٹہ۔ فرمایا:پون گھنٹے سے قبل بارہ بج سکتے ہیں یا نہیں ؟ عَرض کی: نہیں ، یہ سُن کر اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ اُٹھے اور گھڑی کی سُوئی گھمادی، فوراً ٹن ٹن بارہ بجنے لگے۔ نُجُومی سے فرمایا : آپ تو کہتے تھے کہ پَون گھنٹے سے قبل بارہ بج ہی نہیں سکتے۔ تو اب کیسے بج گئے؟ عَرض کی: آپ نے سُوئی گھمادی ورنہ اپنی رفتار سے تو پون گھنٹے کے بعد ہی بارہ بجتے۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے فرمایا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ قادِرِ مُطلَق ہے کہ جس سِتارے کو جس وَقت چاہے جہاں چاہے پہنچادے۔ آپ آیَندہ ماہ بارِش ہونے کا کہہ رہے ہیں اور میرا رب