Brailvi Books

بریلی سے مدینہ
13 - 20
دل کی بات جان لی 
	مدینۃ المرشِد بریلی شریف میں ایک صاحِب تھے جو بزرگانِ دین کو اَھَمِّیَّت نہ دیتے تھے اور پِیر ی مُر یدی کو پیٹ کا ڈَھکوسلا کہتے تھے۔ ان کے خاندان کے کچھ افراد اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن سے بیعت تھے۔ وہ لوگ ایک دن کسی طرح سے بہلا پھُسلاکر اِن کو اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی زِیارت کے لیے لے چلے۔ راستے میں ایک حَلوائی کی دُکان پر گَرم گَرم اَمرِتیاں ( ماش کے آٹے کی مٹھائی جو جلیبی کے مُشابہ ہوتی ہے) تلی جارہی تھیں ، دیکھ کر اِن صاحِب کے منہ میں پانی آگیا۔ کہنے لگے:’’یہ کھِلاؤ تو چلوں گا۔‘‘ ان حضرات نے کہا کہ واپَسی میں کھلائیں گے پہلے چلو۔ بَہَرحال سب لوگ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی بارگاہ میں حاضِر ہوگئے۔ اِتنے میں ایک صاحِب گَرم گَرم اَمرِتِیوں کی ٹوکری لے کرحاضِر ہوئے، فاتِحہ کے بعد سب کو تقسیم ہوئیں۔ دربارِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کا قاعِدہ تھا کہ ساداتِ کرام اور داڑھی والوں کو دُگنا حصّہ ملتا تھا، چُونکہ ان صاحِب کی داڑھی نہیں تھی لہٰذا ان کو ایک ہی اَمرِتی ملی۔ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے فرمایا کہ ان کو دو دیجئے۔ تقسیم کرنے والے نے عَرض کی: حُضور ! ان کے داڑھی نہیں ہے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے مسکرا کر فرمایا :’’ اِن کا دل چاہ رہا ہے، ایک اور دیجئے۔‘‘ یہ کرامت دیکھ کر وہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کے مُرید ہوگئے۔اور بُزُرگانِ دین کی تعظیم کرنے لگے۔   (تجلِّیاتِ امام احمد رضا ص۱۰۱ ) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔      اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم