اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
تمنّا ہے فرمایئے روزِ مَحشر
یہ تیری رِہائی کی چٹھی ملی ہے (حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بِیمارِ بَخت بَیدار
سیِّدقَناعت علی شاہ صاحِب کمزور دل کے تھے۔ ایک بار کسی مریض کے خطرناک آپریشن کی تفصیل سُن کر صدمے سے بے ہوش ہوگئے ، لاکھ جتن کیے گئے لیکن ہوش نہ آیا ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن کی خدمت میں درخواست پیش کی گئی ۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ سیّد زادے کے سِرہانے تشریف لائے۔ نہایت ہی شَفقت کے ساتھ ان کا سر اپنی گود میں لیا اور اپنا مُبَارک رومال ان کے چِہرے پر ڈالا کہ فوراً ہوش آگیا اور آنکھیں کھول دیں۔ زَمانے کے ولی کی گود میں اپنا سردیکھ کر جھوم گئے تعظیم کی خاطر اُٹھنا چاہا مگر کمزوری کے سبب نہ اُٹھ سکے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
سرِ بالیں انہیں رَحمت کی ادا لائی ہے
حال بگڑا ہے تو بِیمار کی بن آئی ہے (ذوقِ نعت)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد