قید سے چھوٹ تو گئے۔۔۔۔!
ایک بُڑھیا جو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن کی مُریدَنی تھیں۔ ان کے شوہر پرقَتل کا مُقدَّمہ دائر ہو کر سزا کا حُکم ہوگیا تھا کہ پانچ ہزار جُرمانہ اور بارہ سال قید۔ اس کی اپیل کی گئی۔ جب سے اپیل ہوئی تھی ان کا بیان ہے کہ میں روزانہ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی خدمت میں حاضِر ہوا کرتی تھی۔ فیصلے کی تاریخ سے چند روز قبل بڑی بی پردے میں لپٹی ہوئی بارگاہِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ میں فریاد لے کر حاضِر ہوئیں۔ فرمایا: کثرت سے حَسْبُنَا اللہ وَنِعْمَ الْوَکِیۡلُ پڑھئے ۔ وہ چلی گئیں۔ درمیان میں کئی بار حاضِر ہوئیں۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ وُہی فرمادیا کرتے۔ یہاں تک کہ فَیصلے کی تاریخ آگئی۔ حاضِر ہو کر عرض کی: حُضُور! آج فیصلہ ہونا ہے۔ فرمایا :’’وُہی پڑھئے۔‘‘ بڑی بی وُہی پُرانا جواب سُن کر کچھ خَفا سی ہوگئیں اور یہ بُڑبڑاتے ہوئے چل دیں کہ جب اپنا پیر ہی نہیں سنتا تو دوسرا کون سُنے گا! جب آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے یہ کیفیَّت دیکھی تو فوراً آواز دے کر بڑی بی کو بُلالیا اور فرمایا: پان کھالیجئے، بڑی بی نے عَرض کی: میرے منہ میں پان موجو دہے۔ آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اِصرار کیا لیکن وہ کچھ ناراض سی تھیں۔ پھر آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اپنے دستِ مُبارَک سے پان بڑھاتے ہوئے فرمایا: چھوٹ تو گئے اب تو پان کھالیجئے! اب بڑی بی نے خوش ہو کر پان کھالیا اور گھر کی طرف چَل دِیں۔ جب گھر کے قریب پہنچیں تو بچّے دَوڑے ہوئے آئے اور کہنے لگے: آپ کہاں تھیں ؟ تار والا ڈھونڈتا پھررہا ہے، خوشی میں گھر گئیں تارلیا اور پڑھوایا تو معلوم ہوا شوہر صاحِب بَری ہوگئے ہیں۔ (حیاتِ اعلٰی حضرت ج۳ص۲۰۲) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی