| بہشت کی کنجیاں |
رمضان المبارک کا روزہ ۲ھ میں فرض ہوا ۔روزہ رکھنے پر بھی اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہے۔ روزہ کے فضائل میں چند حدیثیں حسب ذیل ہیں: حدیث:۱
عَنْ سَھْلٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اِنَّ فِی الْجَنَّۃِ بَابًا یُقَالُ لَہُ الرَّیَّانُ یَدْخُلُ مِنْہُ الصَّائِمُوْنَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ لَا یَدْخُلُ مِنْہُ اَحَدٌ غَیْرُھُمْ یُقَالُ اَیْنَ الصَّائِمُوْنَ فَیَقُوْمُوْنَ لَا یَدْخُلُ مِنْہُ اَحَدٌ غَیْرُھُمْ فَاِذَا دَخَلُوْا اُغْلِقَ فَلَمْ یَدْخُلْ مِنْہُ اَحَدٌ(1)
(بخاری،ج۱،ص۲۵۴)
حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضورنبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایاکہ جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو''باب الریان''(سیرابی کادروازہ )کہا جاتا ہے اسی دروازہ سے قیامت کے دن روزہ دار جنت میں داخل ہوں گے روزہ داروں کے سوا کوئی بھی اس دروازہ سے جنت میں داخل نہیں ہوگا۔جب یہ لوگ داخل ہوچکیں گے تویہ دروازہ بندکردیاجائے گاپھراس کے بعدکوئی بھی اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا۔
حدیث:۲عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلصِّیَامُ جُنَّۃٌ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الصوم،باب الرّیان للصائمین،الحدیث۱۸۹۶،ج۱، ص۶۲۵