Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
97 - 243
فَلَا یَرْفُثْ وَلَا یَجْھَلْ فَاِنِ امْرَؤٌ قَاتَلَہٗ اَوْشَاتَمَہٗ فَلْیَقُلْ اِنِّیْ صَائِمٌ مَرَّتَیْنِ وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَخُلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْیَبُ عِنْدَ اللہِ مِنْ رِیْحِ الْمِسْکِ یَتْرُکُ طَعَامَہٗ وَشَرَابَہٗ وَشَھْوَتَہٗ مِنْ اَجْلِیْ اَلصِّیَامُ لِیْ وَاَنَا اَجْزِیْ بِہٖ وَالْحَسَنَۃُ بِعَشَرِ اَمْثَالِہَا(1)
                      			(بخاری،ج۱،ص۲۵۴)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایاہے کہ روزہ ڈھال ہے لہٰذاکوئی روزہ دارنہ فحش کلامی کرے نہ جہالت کی بات کرے اور اگر کوئی اس سے لڑے یا گالی گلوچ کرے توروزہ دار کو چاہیے کہ اس سے یہ کہدے کہ ''میں روزہ دارہوں۔''اوراس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ یقینا روزہ دار کے منہ کی بو اللہ عزوجل کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ اچھی ہے، روزہ دار اپنے کھانے پینے اور اپنی خواہش کو میری و جہ سے چھوڑ دیتا ہے روزہ میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کابدلہ دوں گااورہرنیکی کادس گناثواب ہے۔

حدیث:۳
    عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ قَالَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ اِیْمَانًا وَّاِحْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ(2)
 (بخاری،ج۱،ص۲۵۵)

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جو رمضان کا روزہ ایمان رکھتے ہوئے اور ثواب طلب کرنے کی نیت سے رکھے اس کے پہلے گناہ (صغائر)بخش دیئے جاتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الصوم،باب فضل الصوم،الحدیث:۱۸۹۴،ج۱، ص۶۲۴

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الصوم،باب من صام رمضان...الخ،الحدیث:۱۹۰۱،ج۱، ص۶۲۶
Flag Counter