Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
86 - 243
نے جہاد کا حکم دیا۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم سے ان مرتدین کے ساتھ جہادکیااورمسیلمۃالکذاب جنگ یمامہ میں اوراسو د عنسی صنعاء میں قتل کردیا گیااوران دونوں کے متبعین بھی بکثرت قتل ہوگئے اور کچھ تائب ہوکر اسلام میں آگئے۔اور وہ تمام مرتدین جو زمانہ جاہلیت کے دین میں لوٹ گئے تھے۔ان میں سے بھی بکثرت مقتول ہوئے مگراکثرتوبہ کرکے پھراسلام میں داخل ہوگئے۔ مذکورہ بالا تینوں قسم کے مرتدین سے جہاد کے بارے میں تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہمکا اتفاق رہا۔

چہارم : مرتدین میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو نماز، روزہ اور حج وغیرہ تمام شرائع اسلام پر ایمان رکھتے تھے اور اس پرعامل بھی تھے۔ ان لوگوں نے صرف زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کیاتھابلکہ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو زکوٰۃکے منکرنہیں تھے بلکہ امیرالمؤمنین حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دربارمیں زکوٰۃلے جانے سے انکارکرتے تھے۔ جیسے کہ بنی یربوع کے قبیلے والوں نے اپنی زکوٰتوں کو وصول کرکے جمع کرلیا تھا کہ اس کو دربارِ خلافت میں بھیجیں گے، مگر مالک بن نویرہ ان کے سردار نے پورے قبیلہ کی زکوٰۃ کو مدینہ بھیجنے سے روک دیا اور ساری زکوۃ کو بنی یربوع کے غریبوں میں تقسیم کردیا ۔ مرتدین کا یہ چوتھا گروہ درحقیقت باغیوں کا گروہ تھا مگر چونکہ یہ لوگ مرتدین میں ملے جلے تھے اس لئے جب امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان لوگوں کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم فرمایا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ شبہ لگا کہ یہ لوگ توکلمہ پڑھتے ہیں اوراسلام کے تمام احکام کے پابندہیں لہٰذا کلمہ پڑھنے کی و جہ سے ان کے جان ومال محفوظ ہوچکے اس لئے ان لوگوں کوقتل کرنادرست نہیں چنانچہ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امیرالمؤمنین حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مبا حثہ اورمناظرہ