جن کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے دنیا ہی میں جنتی ہونے کی بشارت دے دی،اِس سے معلوم ہوتاہے کہ حضور ِ انورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو اپنے ا متیو ں کے خاتمہ کی خبر تھی کیونکہ ظاہر ہے کہ بغیر خاتمہ بالخیر کے کوئی جنتی ہوسکتا ہی نہیں۔ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے جس شخص کے جنتی ہونے کی خوشخبری سنائی۔ ضرور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو اس کے خاتمہ بالخیر کی بھی خبر ہوگی۔
(۳)حدیث نمبر ۳ میں امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہت بڑی فضیلت بیان ہے کہ جنت کے ہر دروازے سے فرشتے ان کو جنت میں داخل ہونے کی دعوت دیں گے۔
(۴)حدیث نمبر۵کی تشریح یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی وفاتِ اقدس کے بعد جو بدنصیب اسلام سے مرتد ہوگئے تھے ان مرتدین کے چند گروہ تھے۔
اول: وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام سے بالکل ہی مرتد ہو کر ''مسیلمۃ الکذاب''کی نبوت کومان لیااوراس کی پیروی کرنے لگے اوران میں بیشترقبیلہ بنوحنیفہ کے لوگ تھے۔
دوم: وہ لوگ تھے جو اسلام سے مرتدہوکرمدعی نبوت ''اسود عنسی''کی نبوت کو مان کراس کے متبع بن گئے اور اس کے متبعین میں زیادہ تر اہلِ یمن تھے۔
سوم: وہ لو گ تھے جو اسلام سے مرتد ہو کر اپنے زمانہ جاہلیت کے پرانے دین میں داخل ہو گئے۔ چنانچہ مرتدین کے ان تینوں گروہ کا اتنا غلبہ ہوگیا تھا کہ صرف تین ہی مسجدوں میں نماز پڑھی جاتی تھی باقی تمام مساجد میں نماز نہیں ہوتی تھی۔ مکہ معظمہ کی مسجد الحرام ، مدینہ طیبہ کی مسجد نبوی، بحرین کی مسجدعبد القیس بس انہیں تینوں مسجدوں میں نماز ہوتی تھی۔ مرتدین کے ان تینوں گروہ سے امیرالمؤمنین ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ