پڑھ لیااس نے اپنے مال اور جان کو مجھ سے بچالیا مگر اسلام کے حق میں اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔''یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم! میں ان لوگوں سے ضرور ضرور جنگ کروں گا جو نمازو زکوۃمیں تفریق کریں گے اس لئے کہ زکوٰۃمال کاحق ہے، خداکی قسم ! اگر یہ لوگ ایک بکری کا بچہ جو زکوٰۃ میں رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے میں دیا کرتے تھے اگر مجھے نہ دیں گے تو میں ان لوگوں سے جہاد کروں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ بخدا!میں نے یہی دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سینہ کو جہاد کے لئے کھول دیا ہے تو میں نے پہچان لیا کہ یقینا یہی حق ہے۔(1)
(بخاری،ج۱،ص۱۸۸ومشکوٰۃ،ص۱۵۷)
(۱)اس عنوان کی حدیث نمبر۱سے معلوم ہواکہ نمازکی طرح زکوٰۃبھی فرض ہے۔چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا داعی بنا کراس کی تبلیغ کے لئے یمن بھیجا تھا۔جس طرح نماز کا انکار کرنے والا کافر ہو جائے گا۔ اسی طرح زکوٰۃ کا منکر بھی کافر ہے۔ واضح رہے کہ کسی بھی فرض کا انکار کفر ہے۔
(۲)حدیث نمبر۲ سے معلوم ہوا کہ دیہاتی صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے جنتی ہونے کی بشارت دے دی ایسے بہت سے خوش نصیب صحابہ علیہم الرضوان ہیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔مشکاۃالمصابیح،کتاب الزکاۃ،الفصل الثالث،الحدیث:۱۷۹۰،ج۱،ص۳۴۰