تو رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اور میں امید کرتا ہوں کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو ۔(1)(جو جنت کے تمام دروازوں سے بلائے جائیں گے۔)
(مسلم شریف،ج۱،ص۲۳۰)
حدیث:۴
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتیں رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں آئیں کہ ان دونوں کے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن تھے۔ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں اِن کنگنوں کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ تو ان دونوں عورتوں نے کہا : ''نہیں''تورسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا :کیاتم اس کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ تم دونوں کو آگ کے دوکنگن پہنائے؟توان دونوں عورتوں نے کہاکہ ''جی نہیں''توحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم دونوں ان کی زکوۃ ادا کرو۔(2) (مشکوٰۃ،ج۱،ص۱۶۰)
حدیث:۵
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ جب حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم وفات پا گئے اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ بنائے گئے اور عربوں میں سے کچھ لوگ کافر ہوگئے۔(تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جہاد کرنے کا حکم دے دیا)تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ ان لوگوں سے کس طرح جہاد کریں گے؟ حالانکہ رسول اللہ