صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے پاس آئے اور یہ کہا کہ آپ کسی ایسے عمل پر میری راہنمائی کریں کہ میں جب وہ عمل کرلوں تو جنت میں داخل ہوجاؤں۔ تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤاورفر ض نماز کو قائم کرواورفرض زکوۃ کو ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ تو اس دیہاتی نے یہ سن کر کہا کہ مجھ کو اُس ذات کی قسم ہے جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ میں اس سے زیادہ نہیں کروں گا۔ پھر جب وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جس کوکسی جنتی آدمی کی طرف دیکھتے ہوئے اچھا لگے وہ اس آدمی کو دیکھ لے۔(1)(بخاری،ج۱،ص۱۸۷)
حدیث:۳
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص خدا کی راہ میں کسی چیز کا ایک جوڑا خرچ کرے تو اس کو جنت میں یہ کہہ کر بلایا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے!یہ بہترین جگہ ہے، پھر جو شخص نمازی ہوگا اس کو نماز کے دروازے سے بلایا جائے گااورجومجاہدہوگا وہ جہاد کے دروازے سے بُلایا جائے گا اور جو صدقہ دینے والا ہوگا وہ صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گااور جو روزہ دار ہوں گے وہ ''باب الریان'' (سیرابی کے دروازے)سے بُلائے جائیں گے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یارسول اللہ !عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کوئی شخص ان تمام دروازوں سے بُلایا جائے اس کی کوئی ضرورت تو نہیں ہے لیکن کیا کوئی ایسا بھی ہے جو ان تمام دروازوں سے بُلایا جائے گا ؟