| بہشت کی کنجیاں |
(۴)جب یہ معلوم ہوچکا کہ ''کثرت سجود'' سے نمازوں کی کثرت مراد ہے تو ظاہر ہے کہ اُن نمازوں سے نفل نمازیں مراد ہیں کیونکہ فرض نمازوں کی توتعدادمقررہے ان میں کثرت و قلت کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔
نمازکی طرح زکوٰۃبھی فرض ہے اورزکوٰۃاداکرنے پراللہ عزوجل اوراسکے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے جنت کی بشارت وخوشخبری دی ہے اوربہشت کی نعمتیں عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے۔ چنانچہ زکوٰۃ کے بارے میں چند حدیثیں مندرجہ ذیل ہیں:
حدیث:۱
حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواپنا داعی اور قاضی بنا کر یمن کی جانب بھیجا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم اہلِ یمن کو اس بات کی دعوت دو کہ وہ'' لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ''
کی گواہی دیں تو اگر وہ لوگ اس بات کو مان لیں تو پھر تم ان کو یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر پانچ نمازیں دن رات میں فرض کی ہیں، تو اگر وہ لوگ اس بات کو مان لیں تو تم پھر ان لوگوں کو یہ بتاؤ کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے مالوں میں تم لوگوں پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو تمہارے مالداروں سے وصو ل کی جائے گی اور تمہارے فقیروں میں لوٹا دی جائے گی۔(1) (بخاری شریف،ج۱،ص۱۸۷)
حدیث:۲
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی حضورنبی اکرمــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الزکاۃ،الحدیث:۱۳۹۵و۱۴۹۶،ج۱، ص۴۷۱و۵۰۴
زكوٰۃ