Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
80 - 243
کرلینا چاہیے۔

(۳) پہلی حدیث سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اپنے کسی اُمتی کو جنت عطا فرمادینا یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے قبضہ و اختیار میں ہے۔ورنہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم حضرت ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمادیتے کہ جنت دینا میرے اختیار میں نہیں ہے مگر آپ نے یہ نہیں فرمایا بلکہ ان کی مراد پوری فرمادی اور نہ صرف جنت بلکہ جنت میں وہ محل جو ربّ العالمین نے خاص رحمۃ للعالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے لئے تیارفرمایاہے حضرت ربیعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عطا فرمایا،کیونکہ خدمت گزاری تو جبھی ہوسکتی ہے کہ خادم و مخدوم دونوں ایک ہی محل میں رہیں خادم مشرق میں رہے اورمخدوم مغرب میں رہے توپھرخدمت گزاری کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ بہرحال اہلِ سنت کا یہی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں کا مالک اور قاسم بنادیا ہے۔وہ جس کو چاہیں عطا فرمائیں۔صاحبِ قصیدہ بردہ شریف نے کیا خوب فرمایاکہ
 	فَاِنَّ مِنْ جُوْدِکَ الدُّنْیَا وَضَرَّتَھَا 		وَمِنْ عُلُوْمِکَ عِلْمَ اللَّوْحِ وَالْقَلَمٖ(1)
    یعنی دنیا و آخرت دونوں آپ کے دستر خوان سخاوت کے دو ٹکڑے اور لوح وقلم کے علوم آپ کے سمندر علم کے دوقطرے ہیں۔ اِس شعر میں دونوں جگہ''مِنْ''  تبعیضیہ ہے۔ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ نے بھی اس مضمون کو بہت خوب بیان فرمایا ہے کہ
			رب ہے  مُعطِی یہ  ہیں قاسم 

  			رزق اُس کا ہے کھِلاتے یہ ہیں
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔قصیدہ بردہ شریف،حضرت امام بوصیری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ
Flag Counter