کہا جاتاہے۔ یعنی کبھی کبھی جزو بول کر کل مراد لیا جاتا ہے اور ایسا ہر زبان میں ہوا کرتا ہے، مثلاً اردو میں خمیرہ گاؤ زبان ایک دوا کا نام ہے، اس میں بہت سی دوائیں پڑتی ہیں۔ مگر ایک جزو گاؤ زبان چونکہ سب سے زیادہ مقدار میں ہوتا ہے اس لئے پوری مرکب دوا کا نام خمیرہ گاؤ زبان پڑ گیا ۔ اسی طرح خمیرہ مروارید بھی ایک مرکب دوا ہے جس میں بہت سی دوائیں پڑتی ہیں اگرچہ مقدار میں کم مگر قیمت میں سب سے زیادہ مروارید ہوتا ہے، اس لئے پوری مرکب دوا کو خمیرہ مروارید کہنے لگے۔ اسی طرح نماز میں قیام، قعود، قومہ،جلسہ،سجدہ سبھی کچھ ہے اور ان سب اجزاء سے نماز مرکب ہوئی ہے۔ مگر چونکہ ایک جزو یعنی سجدہ بہت اہم ہے کیونکہ اس میں خدا کے حضور بہت زیادہ عاجزی کا اظہار ہے اس لئے پوری نماز کو سجدہ کہہ دیاگیا۔
(۲)اس عنوان کی دونوں حدیثوں میں یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنے دونوں صحابیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے فرمایاکہ تم لوگ اپنی حاجت کاسوال کرو،چنانچہ دونوں صحابیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے اپنی اپنی حاجتوں اورمرادوں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے مانگا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ان دونوں کی مرادیں بھی پوری فرمادیں ۔ اس سے صریح طور پریہ ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے اپنی حاجتوں کو طلب کرنا اور اپنی مراد وں کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے مانگنا بلاشبہ جائز و درست بلکہ سنت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اور طریقہ صحابہ علیہم الرضوان ہے۔
وہابیوں،نجدیوں کواس حدیث سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اورانبیاء واولیاء کو مجبورمحض ماننے اورغیراللہ سے کچھ مانگنے کوشرک قراردینے کے عقیدے سے توبہ