| بہشت کی کنجیاں |
حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ رات گزارتاتھا تومیں وضو کا پانی اور آپ کی ضرورت کی چیزیں(مسواک وغیرہ)لایا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ جو چاہو مجھ سے مانگ لو، تو میں نے کہا کہ میں جنت میں آپ کی خدمت گزاری مانگتا ہوں، تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں،تو میں نے کہا کہ بس یہی،اس پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی دلی مراد کے لئے کثرت سجود سے میری مدد کرتے رہو۔ اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔ حدیث:۲
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ کَانَ شَابٌّ یَخْدِمُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَیُخِفُّ فِیْ حَوَائِجِہٖ فَقَالَ تَسْئَلْنِیْ حَاجَۃً فَقَالَ اُدْعُ اللہَ لِیْ بِالْجَنَّۃِ فَرَفَعَ رَأْسَہٗ وَتَنَفَّسَ وَقَالَ نَعَمْ وَلٰکِنْ بِکَثْرَ ۃِ السُّجُوْدِ (1)
(کنز العمال،ج۸،ص۴)
حضرت جابربن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ایک جوان نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا اورآپ کی ضروریات میں ہاتھ بٹایاکرتاتھا۔توحضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ تم مجھ سے اپنی کسی حاجت کا سوال کرو، تو اس نے کہا کہ آپ اللہ عزوجل سے میرے لئے جنت کی دعا مانگیں۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپناسر اٹھایااورایک سانس کھینچ کرارشادفرمایاکہ ہاں مگراس شرط کے ساتھ کہ تم بکثرت سجدے کرتے رہو۔
تشریحات و فوائد
(۱)اس عنوان کی دونوں حدیثوں میں''کثرت سجود''سے مرادنمازوں کوبکثرت پڑھنا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔کنزالعمال،کتاب الصلاۃ،الحدیث:۲۱۶۲۳،ج۴،الجزئ۸،ص۵