رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ملاقات کے لئے تشریف لے گئے توحضرت عاصم بن یوسف رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ اے حاتم !رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کیا تم اچھی طرح نماز پڑھتے ہو؟ تو آپ نے فرمایا کہ '' جی ہاں'' تو حضرت عاصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا:آپ بتائیے کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ تو حضرت حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ جب نماز کا وقت قریب ہوجاتا ہے تو میں نہایت ہی کامل و مکمل طریقے سے وضو کرتا ہوں۔ پھر نماز کا وقت آجانے پر جب مصلیٰ پر قدم رکھتا ہوں تو اس طرح کھڑا ہوتا ہوں کہ میرے بدن کا ہر جوڑ اپنی جگہ پر برقرار ہوجاتا ہے پھر میں اپنے دل میں یہ تصورجماتا ہوں کہ خانہ کعبہ میرے دونوں بھوؤں کے درمیان اور مقامِ ابراہیم میرے سینے کے سامنے ہے پھر میں اپنے دل میں یہ یقین رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ میری ظاہری حالت اور میرے دل میں چھپے ہوئے تمام خیالات کو جانتا ہے اس طرح کھڑا ہوتا ہوں کہ گویا پل صراط پرمیرے قدم ہیں اور جنت میرے داہنے اور جہنم میرے بائیں اور ملک الموت میرے پیچھے ہیں اور گویا یہی نماز میری زندگی کی آخری نماز ہے، اس کے بعد تکبیر تحریمہ نہایت ہی اخلاص کے ساتھ کہتا ہوں پھر انتہائی تدبر اور غور و فکر کے ساتھ قراء ت کرتا ہوں۔ پھر نہایت ہی تواضع کے ساتھ رکوع اور گڑگڑاتے ہوئے انکساری کے ساتھ سجدہ کرتا ہوں۔ پھر اسی طرح پوری نماز نہایت ہی خضوع و خشوع کے ساتھ خوف ورجاکے درمیان ادا کرتا ہوں یہ سن کر حضرت عاصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حیرت کے ساتھ پوچھا کہ اے حاتم اصم !رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کیا واقعی آپ ہمیشہ اور ہر وقت اسی طریقے سے نماز پڑھتے ہیں؟ تو آپ نے جواب دیا کہ جی ہاں!تیس برس سے میں ہمیشہ اور ہر وقت اسی طرح ہر نماز ادا کرتا ہوں۔ یہ جواب سننے کے بعد حضرت عاصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ پر رقت طاری ہوگئی