Brailvi Books

بہشت کی کنجیاں
72 - 243
اور وہ یہ کہنے لگے کہ افسوس !ایسی نماز تو میں نے زندگی بھر میں کبھی بھی ادا نہیں کی۔(1) 

                  				(روح البیان،ج۱،ص۳۳)
(۴)فاقہ کا خطرہ
    بہرحال نماز کو نہایت ہی اخلاص و اطمینان اور حضورِ قلب کے ساتھ ادا کرنا چاہیے،نمازمیں جلدبازی،غفلت اوربے توجہی سے دنیاوآخرت دونوں کاعظیم نقصان ہے۔چنانچہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دادا استاد حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا ارشاد ہے کہ جس شخص کو تم دیکھو کہ رکوع و سجود میں تخفیف کرتا ہے تو اس کے اہل و عیال پر رحم کرو کیونکہ ان کی روزی تنگ ہوجانے اور فاقہ کشی کا خطرہ ہے۔(2)

 			(روح البیان،ج۱،ص۳۳)

     ایک حدیث میں ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص کو دیکھاکہ وہ رکوع وسجودکوپورے طورپرادانہیں کرتاتوآپ نے فرمایاکہ تونے نمازنہیں پڑھی اوراگر تواسی حالت میں مرجاتاتوحضرت محمدمصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی سنت پرتیری موت نہ ہوتی۔(3) (بخاری،ج۱،ص۵۶)
(۵) جماعت کی اہمیت
قرآنِ مجیدمیں
وَارْکَعُوۡا مَعَ الرَّاکِعِیۡنَ ﴿۴۳﴾  (4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔تفسیرروح البیان،البقرۃ،تحت الآیۃ۳،ج۱،ص۳۳

2۔۔۔۔۔۔تفسیرروح البیان،سورۃالبقرۃ،تحت الآیۃ۳،ج۱،ص۳۳

3۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الصلوۃ،باب اذالم یتم السجود،الحدیث:۳۸۹،ج۱، ص۱۵۴

4۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:اوررکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔(پ۱،البقرۃ:۴۳)
Flag Counter