یعنی نمازجماعت کے ساتھ پڑھو۔کہیں یہ فرمان صادر ہوا کہ
الَّذِیۡنَ ہُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خَاشِعُوۡنَ ۙ﴿۲﴾ (3)
یعنی نہایت ہی خشوع اور عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے نماز پڑھو۔ خلاصہ یہ کہ طرح طرح سے مختلف لفظوں کے ساتھ خداوند تعالیٰ نے نماز کی تاکید فرمائی ہے۔
(۲)اَقِیْمُواالصَّلٰوۃَکا مطلب :
واضح رہے کہ قرآنِ مجید میں جہاں جہاں اِرشادِ ربانی ہوا کہ''نماز قائم کرو''اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کو اس کے تمام حقوق اور آداب کی رعایت کے ساتھ ادا کرو، یعنی نماز کی تمام شرطوں، اس کے سب ارکان، اس کے واجبات ،اس کی سنتوں، اس کے مستحبات کی پوری پوری ادائیگی کا دھیان رکھو اور نہایت ہی اخلاص و حضورِ قلب، اطمینان و دلجمعی کے ساتھ تمام اعمالِ نماز کو ادا کرو، اور خوف الٰہی کے جذبات سے نماز میں خوب خوب اپنی عاجزی اور انکساری کا اظہار کرو۔ چنانچہ اس سلسلے میں ایک عالمِ ربانی اور باکرامت محدث حضرت '' حاتم اصم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ''کی نماز کا حال سُن کر عبرت حاصل کیجئے او راپنی نمازوں کی اصلاح کرلیجئے۔
(۳) حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی نماز
حضرت حاتم اصم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مرتبہ حضرت عاصم بن یوسف محدث
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان: بیشک نماز مسلمانوں پر وقت باندھاہوا فرض ہے۔(پ۵،النسآء: ۱۰۳)
2۔۔۔۔۔۔ ترجمہ کنزالایمان:اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔(پ۱، البقرۃ :۴۳)
3۔۔۔۔۔۔ترجمہ کنزالایمان:جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں۔(پ۱۸،المؤمنون:۲)